Bharat Express DD Free Dish

Indian Activist Sonam Wangchuk: ’’قبائلی ہونے کے ناطے لداخ کا درد سمجھیں‘‘، وانگچک کی اہلیہ نے صدر مرمو کو ایک جذباتی خط لکھ کر مانگی مدد

معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کو تیز کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ 11 جنوری کو سونم وانگچُک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی گیتانجلی نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھ کر اپنے شوہر کی غیر مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔

ریمن میگسیسے ایوارڈ یافتہ اور لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کو تیز کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ 11 جنوری کو سونم وانگچُک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی جانب سے دائر ہیبیس کارپس پٹیشن پر سماعت کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی گیتانجلی آنگمو نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھ کر اپنے شوہر کی غیر مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ سونم وانگچُک کو قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں رکھنے کی بنیاد 28 دن کی تاخیر سے فراہم کی گئی، جو کہ قانونی وقت کی حد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کپل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ 29 ستمبر کو وانگچُک کو جو حراستی حکم دیا گیا، وہ نامکمل بنیادوں پر مبنی تھا اور اس کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ واقعے سے متعلق چار اہم ویڈیوز ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں، جس سے ملزم کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ سبل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کی گرفتاری کی مکمل وجوہات جاننا اس کے اہلِ خانہ کا بنیادی حق ہے، جو اس معاملے میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ عدالت اس وقت سونم وانگچُک کی اہلیہ کی جانب سے این ایس اے کے تحت کی گئی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر غور کر رہی ہے۔ پچھلی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا کہ درخواست گزار نے براہِ راست آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا اور ہائی کورٹ سے پہلے رجوع کیوں نہیں کیا گیا۔ اس پر کپل سبل نے عدالت کو بتایا تھا کہ جیل میں ملاقات کے لیے صرف انٹرکام کے ذریعے بات چیت کی سہولت دی جا رہی ہے، جس سے اہلِ خانہ کو مناسب معلومات حاصل نہیں ہو پا رہیں۔

دوسری جانب مرکزی حکومت اور لداخ انتظامیہ کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کی بنیاد پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہے اور یہ عرضی آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سونم وانگچُک پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے لیہہ میں تشدد بھڑکانے کی کوشش کی۔ تشار مہتا کے مطابق 26 ستمبر کو وانگچُک کو این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں راجستھان کی جودھپور جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ اس وقت قید ہیں۔

اسی پس منظر میں سونم وانگچُک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک خط لکھ کر اپنے شوہر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بطور قبائلی، صدرِ جمہوریہ لداخ کے لوگوں کے جذبات اور درد کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چار برسوں سے عوامی مفاد میں کی جانے والی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اس کی بنیاد پر غیر قانونی گرفتاری کی گئی ہے۔ گیتانجلی آنگمو نے اپنے خط اور عرضی دونوں میں اپنے شوہر کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read