Bharat Express DD Free Dish

Farooq Responds to Mehbooba: ’’جموں ڈویژن میں نہیں بنیں گے نئے اضلاع، ریا ست کو تقسیم کرنے کی کوششیں ہوں گی ناکام…‘‘، فاروق عبداللہ کا محبوبہ مفتی کو دو ٹوک جواب

فاروق عبداللہ منگل کے روز جموں میں نیشنل کانفرنس کے بلاک صدور کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت بلاک سطح کے کارکنان اور عہدیداروں کی باتیں سن رہی ہے، ان کے مسائل سے آگاہ ہو رہی ہے اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ۔

جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں ڈویژن میں نئے اضلاع بنانے کے مطالبے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ریاست کو توڑنے کی کوششیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن ایسی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جموں و کشمیر میں کوئی نیا ضلع نہیں بنایا جائے گا۔

فاروق عبداللہ منگل کے روز جموں میں نیشنل کانفرنس کے بلاک صدور کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت بلاک سطح کے کارکنان اور عہدیداروں کی باتیں سن رہی ہے، ان کے مسائل سے آگاہ ہو رہی ہے اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

محبوبہ مفتی کے بیان پر فاروق عبداللہ کا ردعمل

محبوبہ مفتی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ کوئی ضلع نہیں بننا چاہئے۔ پہلے ہی جموں و کشمیر میں اضلاع کی تعداد کافی زیادہ ہے اور اصل مسئلہ ان اضلاع کو بہتر طریقے سے چلانے کا ہے۔ اس دوران فاروق عبداللہ نے سوال کیا ’’وہ بھی وزیر اعلیٰ رہیں، اور ان کے والد بھی سی ایم تھے، تب انہوں نے کیا کیا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ صرف انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے، لیکن دیکھنا چاہئے کہ تین انگلیاں آپ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔

فاروق عبداللہ نے ڈکسن پلان کا دیا حوالہ

فاروق عبداللہ نے مزید کہا، “ڈکسن پلان بہت پرانا تھا کہ ڈیوائڈ کرو۔ چناب ریور کے اُس پار گریٹر کشمیر ہے، اور اسے الگ کرو۔ ہماچل کے پرمار صاحب تھے، جنہوں نے چمبا اور کانگڑا کے لوگوں سے کہا کہ آپ کی زبان ہماچلی ہے، ورنہ تو بڑے بڑے خیال تھے۔ ریاست کو توڑنے والے بہت سے لوگ ہیں، لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔”

فاروق نے سری نگر کے سابق میئر کو کہا ناسمجھ

’’اگر جموں کو الگ کر دیا جائے تو کشمیر کے لیے بہتر ہوگا‘‘ والے بیان پر فاروق عبداللہ نے سری نگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو کو ناسمجھ قرار دیتے ہوئے کہا، “ہم نے کبھی ایسا سوچا نہیں ہے۔ ہم تو لداخ کو بھی الگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس سے لداخیوں کو کیا فائدہ ملا؟ آج تو لداخی بھی کہتے ہیں کہ ہمیں واپس ریاست کے ساتھ جوڑ دو۔ ہمیں یونین ٹیریٹری نہیں چاہئے۔ امید ہے کہ ایک دن پھر سے لداخ واپس آ جائے گا۔”

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read