Bharat Express DD Free Dish

PDP

جموں و کشمیر میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) بدھ کے روز ریاست کا درجہ بحال کرنے، آئینی تحفظ اور جموں و کشمیر سے متعلق دیگر مسائل کے مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہی ہے۔ وہیں، بی جے پی نے نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سول سیکریٹریٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سونمرگ جموں و کشمیر کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جہاں حالیہ دنوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انتظامیہ نے کارروائی تیز کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ اور بے قابو تعمیرات کو روکنے کے لیے یہ کارروائی ضروری ہے۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- ایل اوسی کے اس پارسے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ دل کو تکلیف دینے والی ہیں۔ پُرامن مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جانا مایوس کن ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ اب جب ان کا اکاؤنٹ انڈیا میں کھولا جاتا ہے تو ایک پیغام آتا ہے، جس میں لکھا ہے کہ یہ اکاؤنٹ قانونی مطالبے کے جواب میں محدود کردیا گیا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد جموں و کشمیر میں مسلسل احتجاج دیکھنے کو ملا ہے۔ سری نگر سمیت کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

دسمبر 2025 میں التجا مفتی نے بہار کے وزیراعلیٰ نیتیش کمار کے خلاف ‘حجاب’ تنازعہ پر کیس درج کروایا تھا۔ ایک وائرل ویڈیو کے بعد تنازعہ کھڑا ہوا تھا، جس میں بہار کے وزیراعلیٰ کو ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ شکایت میں انہوں نے بہار کے وزیراعلیٰ پر بھارتی خواتین کی عزت کے لیے توہین آمیز اور ناقابل قبول تبصرے کرنے کا الزام لگایا تھا۔

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس حملے کو محض ایک مجرمانہ فعل نہیں بلکہ شناخت کی بنیاد پر تشدد کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی پر سیدھے حملہ ہے۔

فاروق عبداللہ منگل کے روز جموں میں نیشنل کانفرنس کے بلاک صدور کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت بلاک سطح کے کارکنان اور عہدیداروں کی باتیں سن رہی ہے، ان کے مسائل سے آگاہ ہو رہی ہے اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

محبوبہ مفتی نے اپنی پوسٹ میں جاوید اختر کی اہلیہ شبانہ اعظمی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شبانہ اعظمی نے خود کھل کر بتایا تھا کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے بمبئی جیسے جدید اور جامع شہر میں بھی مکان دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔