Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel War

اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنرل سیکورٹی کے ادارے کے سربراہ رشید جحجوح کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ میں شہری دفاع نے جمعرات کے روز بتایا کہ منگل کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 504 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

غزہ پٹی پر اسرائیلی فوج کا حملہ چوتھے روز بھی جاری ہے جب اس کی زمینی افواج نے شمالی اور جنوبی غزہ پر حملہ کیا اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اس کے ساحلی علاقے پر قبضے کی دھمکی دی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے فضائی حملے ’صرف شروعات‘ ہیں۔ اس کے بعد مزید سنگین حملے ہوں گے، اور تم اس کی پوری قیمت چکاؤ گے۔

پرینکا  گاندھی کے تازہ ترین بیانات اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جو منگل کے اوائل میں غزہ پٹی کے مختلف حصوں میں کیے گئے، جس میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔ اس حملے نے جنوری سے جاری نازک جنگ بندی کو توڑ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کو برسلز سے ویڈیو کال کے ذریعے بتایا کہ راتوں رات ہمارے بدترین خدشات سچ ہو گئے۔ غزہ پٹی میں فضائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ پر جان لیوا حملوں کے بعد غزہ کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو ’’فوری طور پر علاقہ خالی کرنے‘‘ کی دھمکی ہے۔ اسرائیل کے تازہ حملوں نے صرف کچھ ہی گھنٹوں کے اندر کم از کم 404 فلسطینیوں کی جان لے لی ہے اور 562 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جنگ بندی کی بات چیت کے دوران اسرائیل نے منگل کو غزہ پر اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے، جس نتیجے میں کم از کم 330 افراد ہلاک ہو گئے۔مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بجے شروع کیا گیا یہ حملہ 19 جنوری کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے فلسطینی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

مریکہ نے ہفتے کی رات یمن پر اپنے حملوں میں 100 سے زائد افراد کو زخمی اور ہلاک کیا۔ وہیں یمنی حوثیوں نے اتوار کی شام امریکی جنگی جہاز پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا، جس کے بعد امریکہ نے یمن پر دوبارہ بمباری کی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اسرائیل پرانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جنسی اورصنفی تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کئی واقعات میں متاثرین کوزبردستی سرعام برہنہ کیا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اورزیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

حماس کے ترجمان قاسم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان غزہ پٹی کے لوگوں کو بےگھر کرنے کے اپنے خیالات سے پیچھے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔‘‘ قاسم نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے کو جنگ بندی کے معاہدوں کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس بیان کو مزید تقویت دی جائے۔‘‘