Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel War

تحقیقات کے دوران یہ بھی پتا چلا ہے کہ اسرائیلی فوج کی خفیہ سائبر وار یونٹ 8200 گزشتہ برسوں کے دوران چھوٹے پیمانے پر مشین لرننگ ماڈلز استعمال کرتی رہی ہے۔ایک ذریعے نے بتایا کہ اے آئی طاقت کو بڑھائے گا۔

رفح شہر سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون تساہل ناصر نے کہا، ’’رمضان کا مقدس مہینہ غزہ میں اپنی خوشیاں کھو چکا ہے۔ یہاں کوئی لالٹین ہے، کوئی سجاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہلچل بھرے بازار ہیں۔ اس کے بجائے یہاں موت کی خاموشی ہے اور ہمیشہ تباہی کی بو پھیلتی رہتی ہے۔‘‘

دوسری جانب فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت شروع کرنے کےعز م کا اظہار کیا ہے۔

لازیمی کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں نیتن یاہو کے بیٹے نے 300,000 شیکل (تقریباً 84,000 ڈالر) کے مالی معاوضے کا مطالبہ کیا۔ لازیمی نے امریکی شہر میامی میں نیتن یاہو کے بیٹے کی رہائش گاہ کو محفوظ بنانے کے اخراجات کے بارے میں بھی استفسار کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ میں غزہ کو خریدنے اور اس کا مالک بننے کے لیے پرعزم ہوں، جہاں تک اس کی تعمیر نو کا تعلق ہے تو ہم اسے مشرق وسطیٰ کی دوسری ریاستوں کو دے سکتے ہیں تاکہ اس کے کچھ حصوں کی تعمیر کی جا سکے۔

یاد رہے کہ عرب لیگ کے ساتھ ساتھ مصر اور اردن دونوں کی حکومتوں نے ہفتے کے آخر میں  اپنے بیانات میں اس خیال کو یکسر مسترد کر دیاتھا۔ پانچ عرب ممالک اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیاتھا۔

رفح بارڈر کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد زخمی فلسطینیوں کے پہلے گروپ کو غزہ سے مصر لے جایا گیا۔ یہ مصر اور غزہ پٹی کے درمیان واحد کراسنگ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ سے 50 مریض طبی امداد کے لیے کراسنگ کے ذریعے مصر پہنچے ہیں۔ غزہ کے لوگ رفح کراسنگ کو ’دنیا کا گیٹ وے‘ کہتے ہیں۔ یہ مئی 2024 سے شہریوں کے لیے بند تھا۔

فلسطین کے صدر محمود عباس اور غزہ کے شہریوں نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی پیشکش کو ازسرنو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم تکلیف میں ہیں، لیکن یہودیوں کے لئے ہم اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔

چاروں یرغمالیوں کو جیسے ہی غزہ میں ریڈ کراس کوسونپا گیا، تل ابیب کے ایک چوک پرخوشی کی لہردوڑگئی، جہاں یرغمالیوں کی فیملی اوردوست جمع ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، بڑی اسکرین پرچاروں کی رہائی کولائیودکھایا گیا اورتل ابیب میں لوگوں کوروتے ہوئے، مسکراتے ہوئے اورایک دوسرے کوگلے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے آرمی چیف کے اس اعلان کو بنیاد بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو بھی آرمی چیف کے ساتھ ہی استعفا دے کر گھر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت اگیا ہے کہ نیتن یاہو کی پوری حکومت حماس کے سلسلے میں اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔