Bharat Express DD Free Dish

Gaza Ceasefire

حماس نے امریکی-اسرائیلی قیدی ایڈن الیکزینڈر کی رہائی کا اعلان کیا ہے، جوغزہ میں جنگ بندی میں ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ توقع ہے کہ الیکزینڈر کی رہائی سے غزہ میں کشیدگی میں کمی آئے گی اورایک جامع سیاسی تصفیہ ہوگا۔ تاہم ریلیزکرنے کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔

حماس کے حکام نے کہا ہے ہم تمام قیدیوں کو رہا کرنے کو تیار ہیں ۔ تاہم ان اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ شرط ہو گی کہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل بھی رہائی دے گا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کی ضمانتیں دی جائیں گی۔

جنوری میں اسرائیل اور حماس نے یرغمالیوں کے لیے تین مرحلوں میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ حالانکہ، مذاکرات کا دوسرا دور چھ ہفتے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کے تعطل کے درمیان 18 مارچ کو غزہ میں پھر سے فوجی آپریشن شروع کر دیا۔

رات کے دوران اسرائیلی حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کا مرکز غزہ شہر رہا، جہاں ایک باپ اور اس کی بیٹی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے، اور جنوبی پٹی، جہاں ایک حملے نے نقل مکانی کرنے والے خیمے کو نشانہ بنایا، جس میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل نے اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں روزانہ کم از کم 100 بچوں کی ہلاکت اورزخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے بچوں کے قتل عام کو ہولناک قراردیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ غزہ کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف غزہ میں دوبارہ جنگ شروع کرنے پر اسرائیلی عوام وزیر اعظم  بنجامن نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسرائیل دوسرے مرحلے کی جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے بغیر ہی باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے۔ حتی کہ اس کے لئے مذاکرات سے بھی گریزاں ہے۔ جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے سلسلے میں پیش رفت کے بغیرقیدیوں کورہا نہیں کیا جاسکتا۔

حماس کے ترجمان قاسم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان غزہ پٹی کے لوگوں کو بےگھر کرنے کے اپنے خیالات سے پیچھے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔‘‘ قاسم نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے کو جنگ بندی کے معاہدوں کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس بیان کو مزید تقویت دی جائے۔‘‘

اسرائیلی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی سے متعلق عرب ممالک کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری بیان غزہ کی حقیقی صورت حال کا علاج نہیں کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق حماس تنظیم غزہ میں باقی نہیں رہ سکتی۔

رفح شہر سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون تساہل ناصر نے کہا، ’’رمضان کا مقدس مہینہ غزہ میں اپنی خوشیاں کھو چکا ہے۔ یہاں کوئی لالٹین ہے، کوئی سجاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہلچل بھرے بازار ہیں۔ اس کے بجائے یہاں موت کی خاموشی ہے اور ہمیشہ تباہی کی بو پھیلتی رہتی ہے۔‘‘