امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ (فائل فوٹو)
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے غزہ سے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو مستقل طور پر کہیں اور منتقل کرنے کے پلان سے پیچھے ہٹنے کا خیرمقدم کیا ہے۔
الجزیرہ کی خبر کے مطابق حماس کے عہدیدار کا یہ بیان بدھ کے روز آئرلینڈ کے تیشک میہال مارٹن کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں یہ کہنے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ’’کوئی بھی کسی فلسطینی کو غزہ سے نہیں نکال رہا ہے۔‘‘
حماس کے ترجمان قاسم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان غزہ پٹی کے لوگوں کو بےگھر کرنے کے اپنے خیالات سے پیچھے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔‘‘ قاسم نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے کو جنگ بندی کے معاہدوں کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس بیان کو مزید تقویت دی جائے۔‘‘
واضح رہے کہ ٹرمپ نے پوری دنیا اور خاص کر مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت بڑا تہلکہ مچادیا تھا جب انھوں نے غزہ پر امریکی قبضے کی تجویز پیش کرتے ہوئے فلسطینیوں کو پڑوسی ممالک میں منتقل کرنے کی بات کہی تھی۔ تاہم تمام عرب ممالک اور چند یوروپی ممالک نے اس تجویز کو سختی سے رد کر دیا اور مصر نے غزل کی بازآبادکاری کے لیے ایک ’’عرب منصوبے‘‘ کی تجویز پیش کی، جس کی حمایت میں فرانس، جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک پیش پیش رہے۔
غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت
دریں اثنا غزہ میں جنگ بندی پر مذاکرات کا ایک نیا دور منگل کو قطر میں شروع ہوا۔ قطر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’عرب وزراء نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور جامع امن کے حصول اور فلسطینی عوام کی آزادی اور ان کی آزادی کی خواہشات کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے حقیقی طور پر کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سے قبل اتوار کے روز حماس کے سیاسی مشیر طاہر النونو نے تصدیق کی تھی کہ قطری دارالحکومت میں واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت غزہ میں حماس کے زیر حراست دوہری شہریت رکھنے والے امریکی-اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر مرکوز تھی۔
النونو نے کہا کہ حماس کے رہنماؤں اور امریکی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر بھی بات ہوئی ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مرحلہ وار جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کی کیا صورت ہوگی۔ اور یہ کہ ہمارا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔ اس بیچ حماس کے ایک وفد نے گزشتہ دو دنوں کے دوران مصری ثالثوں سے بھی ملاقات کی ہے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے اپنی تیاری کا اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا 42 روزہ پہلا مرحلہ اس ماہ کے شروع میں ختم ہو گیا تھا۔ اسرائیل نے اس کے بعد سے غزہ پر مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے، جو کہ 12ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اس سخت ناکہ بندی میں خوراک، ایندھن اور ادویات کا داخلہ بھی روک دیا گیا ہے۔ کئی عالمی رہنماؤں نے اسے اجتماعی سزا اور اسرائیل کی طرف سے حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ’’انسانی امداد کو ہتھیار بنانا‘‘ قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
