Bharat Express DD Free Dish

Gaza Ceasefire

مذاکرات گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ قریب ہیں۔مارکو روبیو نے ملائیشیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر کہا ہےکہ ہم جنگ بندی کے حوالے سے پُرامید ہیں، ایسا لگتا ہے کہ عمومی طور پر فریقین کے درمیان شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے۔

صدرڈونالڈ ٹرمپ نے ان خبروں پر بھی تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی، اسرائیلی اور قطری حکام کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت معاہدے کے حصول کی ہے، اور وہ معاہدہ قریب ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے تک جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے گا۔ انھوں نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں تقریباً ڈھائی سال سے جاری جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ غزہ جنگ بندی کی یہ تجویز امریکہ کی قیادت میں قطراورمصر کے تعاون سے تیارکی گئی تھی، جسے اسرائیل نے قبول کرلیا ہے۔ دوسری جانب، ایلن مسک نے ٹوئٹ کرکے ٹرمپ کے دعوے پرسوال اٹھایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، غزہ میں دشمنانہ کارروائیاں دو ہفتوں کے اندرختم کردی جائیں گی اورجنگ کے خاتمے کی شرائط میں چارعرب ممالک جن میں مصراورمتحدہ عرب امارات شامل ہیں کوغزہ کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان ہفتے کے روز اسرائیل پر میزائل حملے کیے گئے، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان کے علاوہ 34 افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران، سلامتی کونسل نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے اعلیٰ عہدیدار کو خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر حملوں کے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔

148 ممالک نے اس غیر پابند قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں محصور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی جنگ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور صدر جو ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو جنگ بندی کی تجویز دی ہے جسے اسرائیل نے قبول کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جس کی اسرائیل نے حمایت کی۔‘

ایک اسرائیلی اہلکار اور اس معاملے سے واقف ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ معاہدے میں نہ صرف 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے بلکہ 10 زندہ یرغمالیوں اور 18 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کے حوالے کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔