Bharat Express DD Free Dish

UNSC: ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری جنگ کے مطالبے سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ سے کیا پرہیز، امریکہ نے کی قرارداد کی مخالفت

148 ممالک نے اس غیر پابند قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں محصور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی جنگ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق ہندوستان ان 19 ممالک میں شامل ہے، جنھوں نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد پر ووٹنگ سے پرہیز کیا۔ اس درمیان 148 ممالک نے اس غیر پابند قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں محصور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی جنگ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تاہم دسمبر 2023 میں ہندوستان ان 153 ممالک میں شامل تھا جنھوں نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ پھر نئی دہلی نے جولائی 2024 میں بھی غزہ میں فوری اور مکمل جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ میں اپنی درخواست کا اعادہ کیا تھا۔

امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت کی

دریں اثنا اسرائیل اور امریکہ ان 12 ممالک میں شامل ہیں، جنھوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے زیر حراست باقی ماندہ یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کے مطالبات کا اعادہ کیا گیا تھا۔ قرارداد میں غزہ میں فاقہ کشی اور وہاں امداد سے انکار کو جنگی حربوں کے طور پر استعمال کرنے کی بھی مذمت کی گئی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی فوری طور پر اٹھائے اور تمام سرحدی گزرگاہوں کو امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کھول دے۔

جہاں امریکہ نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، وہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار دیگر مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ واضح رہے کہ قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 55000 سے تجاوز کرنے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read