Bharat Express DD Free Dish

Congress

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اسکولوں میں بے تحاشا بڑھتی ہوئی فیس کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک خصوصی بل اسمبلی میں پیش کریں گی۔ طویل عرصے سے والدین نجی اسکولوں کی من مانی فیس کی وصولی کی شکایت کرتے آ رہے ہیں۔

دیویندر یادو نے کہا کہ ’’کانگریس کارکنوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ بی جے پی کی جھگی مخالف پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہے۔‘‘

انھوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے اس انتباہ کو بھی یاد دلایا کہ اگر سماجی اور اقتصادی انصاف نہ ہو تو سیاسی جمہوریت صرف دکھاوے کی جمہوریت ہوگی۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کوگھیرلیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ نریندرمودی کی 'دوستی' کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں بتایا کہ جنگ بندی کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم اونے فون کرکے اپیل کی تھی۔ ڈی جی ایم اونے کہا- بس کرو، بہت ہوگیا ہے۔ پاکستان گھٹنوں کے بل آنے پرمجبورہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی ملک نے بھارت کوکارروائی سے نہیں روکا۔

آپریشن سندورپربحث کے دوران پارلیمنٹ میں ایک لمحہ ایسا آیا، جب جے پی نڈا کو معافی مانگنی پڑی۔ سینئر رکن پارلیمنٹ اور کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کے بولنے کے بعد جے پی نڈا بولنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ وزیراعظم مودی کے لئے کھڑگے کے استعمال کردہ الفاظ پرسوال اٹھا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ایسی بات کہہ دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ مچ ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کانگریس کی غلطی ہے اور اگر کانگریس نے تقسیمِ ہند کو قبول نہ کیا ہوتا تو آج پاکستان وجود میں نہ آتا۔

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں آج دوسرے دن بھی آپریشن سندورپربحث ہورہی ہے۔ اس دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت کوگھیرا۔ تاہم، جب انہوں نے پہلگام میں مارے گئے لوگوں کوہندوستانی قراردیا تولوک سبھا میں حکمراں جماعت کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔

سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم پرتنقید کرتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کربہت افسوس ہوا کہ کل اس ملک کے سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے سوال اٹھایا کہ کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے ہفتے میں ہونے والی رکاوٹوں کے بعد دوپہر سے پہلگام حملے اور آپریشن سندور پر پارلیمنٹ میں گرماگرم بحث جاری ہے۔