Bharat Express DD Free Dish

Chandrashekhar Azad

چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ انہیں اتر پردیش کے لوگوں کی فکر ہے، جہاں بے روزگاری کے باعث نوجوان ملازمت کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ پیپر لیک کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو احتجاج کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ تعلیم کی خراب صورتحال اور گرتی ہوئی سطح بھی ہمارے سامنے ہے۔

پارٹی نے ہر ضلع میں صنعتی کلسٹر قائم کرنے، مقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور مقامی سطح پر روزگار پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کی ہجرت روکنے کے ساتھ زراعت، ٹیکنالوجی اور ایم ایس ایم ای شعبوں میں روزگار اور خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

27 فروری 1931 کو الہ آباد کے الفریڈ پارک میں جب وہ برطانوی فوج سے گھر گئے تو انہوں نے آخری گولی سے خود کو شہید کر لیا، لیکن زندگی بھر برطانوی حکومت کے ہاتھوں گرفتار نہیں ہوئے۔ ان کی قربانی، خودداری اور حب الوطنی آج بھی ہندوستان کی نوجوان نسل کے لیے ایک لازوال مثال ہے۔

وزیراعظم نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ چندر شیکھر آزاد نے بے شمار نوجوان بھارتیوں کو ملک کے لیے خود کو وقف کرنے کی ترغیب دی۔ ان کا عزم نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ مرکزی وزیر اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی چندرشیکھر کی قربان کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج پیش کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم چندرشیکھر کی 100ویں جینتی کے موقع پر ملک بھر کے لیڈروں نے انہیں یاد کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں ایک سچے عوامی لیڈر قرار دیا، جو اپنی جرات، مضبوط یقین اور جمہوری اقدار کے تئیں گہری وابستگی کے لیے جانے جاتے تھے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ چندرشیکھر آزاد کی قربانیوں کو یاد کرتے ہی آج بھی ہر بھارتی کا دل قومی جذبے سے سرشار ہو جاتا ہے۔ امت شاہ نے انہیں ایک عظیم، ناقابلِ شکست اور بہادر انقلابی قرار دیتے ہوئے ان کی برسی پر احترام کے ساتھ سلام پیش کیا۔

وزیرِ اعظم نے ایک سنسکرت  سبھا شیتم کوبھی شیئر کیا، جس میں شجاعت اور بہادری کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ اس قول کے مطابق تینوں جہانوں میں بہادری سے بڑھ کر کوئی صفت نہیں اور یہی قوت پوری کائنات کے تحفظ اور بقا کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

دہلی کے مشرقی شاہدرہ میں واقع چندرشیکھر آزاد پارک میں این ایف ایل کی سی ایس آر کے تحت خوبصورت پینٹنگ کی جارہی ہیں۔ روایتی فن سے آراستہ دیواریں نظر آرہی ہیں۔ 60 مقامات پر ایسی دلکش مصوری کی جائے گی۔ یہ شہر کو رنگین بنانے کی ایک منفرد کوشش ہے۔

’کاکوری کانڈ‘ کا مقصد برطانوی راج کے خلاف ہتھیار خریدنے اور ان کی طاقت کو چیلنج کرنے کے لیے رقم اکٹھا کرنا تھا۔ کاکوری واقعے کی منصوبہ بندی ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن (HRA) کے انقلابیوں نے کی تھی، جس کی بنیاد 1924 میں مسلح انقلاب کے ذریعے ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے رکھی گئی تھی۔

انقلابیوں کا منصوبہ تھا کہ برطانوی حکومت کے ریلوے کے ذریعے منتقل کی جانے والی خزانے کی رقم کو ضبط کیا جائے، تاکہ اس رقم کو آزادی کی جدوجہد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔