Bharat Express DD Free Dish

AIMPLB

پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی موجودہ اولڈ قیادت ناکام ہوچکی ہے اور اب اس کی باگ ڈور'مسلم جین زی' کے ہاتھوں میں سونپ دینی چاہئے کیونکہ جمہوریت میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سڑکوں پر اترنے اور جیل جانے کا سبق یاد رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، جو ہمارے موجودہ جید علماء کرام بالکل بھول چکے ہیں۔ بس انھیں یاد ہے تو اپنے آبا واجداد کی عظیم قربانیاں جس کا وہ باربار حوالہ دے کراپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدراورسابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے الزام لگایا کہ دھارکی کمال مولا مسجد اوردیگرتاریخی مساجد اوروقف املاک پرتجاوزات اورتباہی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں: محض رسمی کارروائیوں، رسمی بیانات اورکاغذی کارروائی کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کو چیلنج کرے گا۔AIMPLB کا کہنا ہے کہ بھوج شالا کیس عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی روح کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایران پرامریکی-اسرائیل حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ حملوں سے عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس لئے اس پرفوری روک لگائی جائے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ 30 اپریل کورات 9 بجے سے 9:15 بجے تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بلیک آؤٹ احتجاج کی حمایت کریں، جووقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اورسوگ کے اظہار کے طورپریہ احتجاجی مہم تین دن کے لیے ملتوی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف تحفظ مہم کے تحت ملک گیر سطح پر جو مظاہرے اور عوامی اجتماعات جاری تھے، ان پر23 اپریل سے تین دنوں کے لئے مکمل روک لگا دی گئی ہے۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جب تک یہ کالے قانون واپس نہیں لئے جاتے تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں پورے اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔ کسی طرح کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ وقف قانون میں مرکزی حکومت کے ذریعہ من مانی، متنازعہ، دستوری حقوق سے متصادم ، امتیازوتفریق اورفرقہ واریت پرمبنی ترمیمات نے فی الواقع مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر دیا ہے، جس کا اظہار ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج و مظاہروں کی شکل میں ہو رہا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2025 کی مخالفت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں سے احتجاج کے تناظر میں سیاہ پٹی باندھنے کی اپیل کی تھی جس کے بعد ملک بھر میں مسجدوں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر مسلمانوں نے رمضان کا آخری جمعہ ادا کیا اور اپنا احتجاج درج کرایا۔