Bharat Express DD Free Dish

AIMPLB

جے پی سی کے چیئرمین اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ وہ ملک میں "عدم استحکام" پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ چاہے وہ عمران مسعود ہوں یا اے آئی ایم پی ایل بی، وہ اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمہوریت میں مخالفت درج کرانے کے لئے احتجاج کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی حمایت کے بغیر وقف ترمیمی بل کو منظور کرانا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ کو ان دونوں ہی پارٹیوں کی طرف سے کوئی مثبت یقین دہانی نہیں کرایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ مودی حکومت کے ساتھ ہیں۔

ہولی کی وجہ سے پارلیمنٹ بند ہوجانے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ملک گیر مہم جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش ہونے سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کے غیر آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سبھی مسلم تنظیموں کی رائے کونظراندازکرکے اوراپوزیشن اراکین کے مشوروں کوخارج کر کے بل کومنظوری دینے کی سفارش کرنا غیرجمہوری ہے۔

اے آئی ایم پی ایل بی کے ترجمان سید قاسم الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ "پرسنل لاء بورڈ ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں مساجد اور درگاہوں کے خلاف دعووں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے دعوے قانون اور آئین کا کھلا مذاق ہیں۔

بی جے پی اقلیتی مورچہ نے کہا کہ آپ ہندوستان کے مسلمانوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ پسماندہ سماج کو آپ نے نہ کے برابر حصہ داری دی ہے اور نہ ہی اس کے لئے آپ نے کبھی آواز اٹھائی جبکہ ملک میں 80 فیصد مسلمان پسماندہ طبقے سے آتے ہیں۔ یہ ایک غیر ضروری تنظیم ہے، لہٰذا اس کے نام سے’بورڈ‘ لفظ ہٹایا جائے۔

وقف بورڈ ترمیمی بل 2024 کے بارے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر خالد سیف اللہ رحمانی نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت میں دیگر پارٹیاں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے مشورے سے وقف پر قبضے اور غلط استعمال پر قانون بنائے، ہم حکومت کا ساتھ دیں گے۔

مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ وقف پر حکومت جو ترمیمی بل لے کرآئی ہے اس سے ہمارے مذہب اوراوقاف پر ضرب پڑتی ہے اس بل سے ہماری اقتداراورہمارے اصول متاثرہوتے ہیں اس لئے  ہمیں اس کے خلاف احتجاج کرنے کا حق ہے۔

 وفد نے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی پارٹی نے بطور خاص پارلیمنٹ میں مجوزہ وقف ترمیمی بل کی پرزور مخالفت کی۔ الحمداللہ اپوزیشن کی بھرپور مخالفت سے بل جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ، مسلمانوں کی دینی وملی تنظیموں اوردینی مدارس کے ذمہ داران نے ریاست اترپردیش کے چیف سکریٹری کی طرف سے مدارس کا سروے کرکے ضلعی حکام کو ہدایات دینے سے متعلق فیصلے پر مشترکہ بیان جاری کرکے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔