Bharat Express DD Free Dish

Aam Aadmi Party

سندیپ پاٹھک نے اپنے اوپردرج ایف آئی آرکی تفصیل مانگی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ ان کے خلاف کیا ایف آئی آر درج ہوئی ہے اورکہاں ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس کے لئے وقت مانگا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے دہلی میں صدرجمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ مگران کے اراکین اسمبلی اورکابینہ کوصدرجمہوریہ سے ملاقات نہیں کرنے دیا گیا۔ انہیں راستے میں ہی روک دیا گیا۔ روکے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے احتجاج شروع کردیا۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمارے شہیدوں نے جوآزادی ہمیں دلائی، آج اس آزادی پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں ہے۔ پچھلے تین چارمہینوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ افراتفری کا پورا ماحول ہے۔

ذرائع کے مطابق، سندیپ پاٹھک کے خلاف غیرضمانتی دفعات کے تحت دوایف آئی آردرج کی گئی ہیں۔ حالانکہ ان ایف آئی آرکے بارے میں ابھی کوئی اورجانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

بی جے پی کے قومی ترجمان آر پی سنگھ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھگوت مان ایسے الزامات میں گھرے ہیں۔ انہوں نے 2015، 2019 اور 2022 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے نشے میں ہونے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2019 میں بھگوت مان نے عوامی طور پر شراب نہ پینے کا وعدہ کیا تھا۔

بی جے پی کی قیادت کا ماننا ہے کہ پنجاب میں منشیات کا مسئلہ نہایت سنگین ہو چکا ہے اور اس کے سبب لاکھوں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کا خیال ہے کہ نوجوان نسل میں نشے کی لت نے سماجی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے، جسے سیاسی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت امت شاہ کی قیادت میں ریاست بھر میں ایک وسیع عوامی مہم چلائی جائے گی۔

میئر کے اس انتخاب میں اس بار عام آدمی پارٹی نے حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے باعث مقابلہ براہ راست بی جے پی اور کانگریس کے درمیان محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم، عام آدمی پارٹی کی غیر موجودگی نے بی جے پی کے لیے راستہ مزید ہموار کر دیا اور نتیجہ یکطرفہ رہا۔

ادت راج نے اس رویے کو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی الزام عائد کرے اور خود ہی فیصلہ سنانے لگے تو پھر عدالتی عمل کی اہمیت کیا رہ جائے گی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق بی جے پی قیادت کی منظوری کے بعد باغی اراکین نے پہلے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط پیش کیا، پھر میڈیا کے سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کی اور اس کے بعد پارٹی صدر سے ملاقات کی۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔