Bharat Express DD Free Dish

Aam Aadmi Party

بی جے پی کے قومی ترجمان آر پی سنگھ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھگوت مان ایسے الزامات میں گھرے ہیں۔ انہوں نے 2015، 2019 اور 2022 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے نشے میں ہونے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2019 میں بھگوت مان نے عوامی طور پر شراب نہ پینے کا وعدہ کیا تھا۔

بی جے پی کی قیادت کا ماننا ہے کہ پنجاب میں منشیات کا مسئلہ نہایت سنگین ہو چکا ہے اور اس کے سبب لاکھوں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کا خیال ہے کہ نوجوان نسل میں نشے کی لت نے سماجی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے، جسے سیاسی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت امت شاہ کی قیادت میں ریاست بھر میں ایک وسیع عوامی مہم چلائی جائے گی۔

میئر کے اس انتخاب میں اس بار عام آدمی پارٹی نے حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے باعث مقابلہ براہ راست بی جے پی اور کانگریس کے درمیان محدود ہو کر رہ گیا۔ تاہم، عام آدمی پارٹی کی غیر موجودگی نے بی جے پی کے لیے راستہ مزید ہموار کر دیا اور نتیجہ یکطرفہ رہا۔

ادت راج نے اس رویے کو جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رہنما خود ہی الزام عائد کرے اور خود ہی فیصلہ سنانے لگے تو پھر عدالتی عمل کی اہمیت کیا رہ جائے گی۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق بی جے پی قیادت کی منظوری کے بعد باغی اراکین نے پہلے راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط پیش کیا، پھر میڈیا کے سامنے آ کر اپنی پوزیشن واضح کی اور اس کے بعد پارٹی صدر سے ملاقات کی۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔

راگھو چڈھا نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی اپنے بنیادی اصولوں سے بھٹک چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو انہوں نے 15 برس تک اپنی محنت سے مضبوط کیا، وہ اب اپنی اصل راہ سے ہٹ گئی ہے اور ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔

15 اور 16 جنوری 2014 کی درمیانی شب، اُس وقت کے وزیر قانون سومناتھ بھارتی نے اپنے حامیوں کے ساتھ جنوبی دہلی کے کھڑکی ایکسٹینشن علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مارا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے وہاں رہنے والی افریقی نژاد خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔

راگھو چڈھا کو حال ہی میں راجیہ سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اورایوان میں بولنے سے روک دیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے ان کی جگہ اشوک متل کومقرر کیا ہے۔ آج ہی ای ڈی نے اشوک متل کے جالندھ واقع رہائش گاہ اور نجی یونیورسٹی پر چھاپہ ماری کی ہے۔

ریکھا گپتا نے مزید کہا کہ میں آج دہلی کی عوام سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ شخص جس نے ہمیشہ جمہوریت کی بے حرمتی کی، سرکاری ایجنسیوں پر انگلی اٹھائی اور جو بھی ان کے خلاف دو لفظ بولتا تھا، اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔