Bharat Express

Reciprocal tariffs: شروع ہورہی ہے جوابی ٹیرف کی جنگ،ہندوستان کا ہوسکتا ہے بڑا نقصان،مودی سرکار کو مشکل میں ڈال دیاوائٹ ہاوس کا یہ بیان

امریکہ کے اس اعلان نے دیگر ممالک کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ چین نے پہلے ہی امریکی زرعی مصنوعات جیسے سویا بینز پر 10 سے 15 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جبکہ یورپی یونین نے امریکی سٹیل اور ایلومینیم کے ٹیرف کے جواب میں اپنے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

آج کی تاریخ یکم اپریل 2025 ہے، اور یہ خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت سمیت دیگر ممالک کے خلاف متوقع “جوابی ٹیرف” (reciprocal tariffs) کے اعلان سے متعلق ہے، جو کل یعنی 2 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ  کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے بھارت کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر تنقید کی ہے اور اسے امریکی مصنوعات کے لیے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ بھارت اور دیگر ممالک کی جانب سے عائد کردہ بھاری ٹیرف امریکی مصنوعات کو ان ممالک میں برآمد کرنا “عملاً ناممکن” بنا دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اسے “آزادی کا دن” (Liberation Day) قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2 اپریل سے جوابی ٹیرف کا اطلاق شروع ہوگا، جو امریکی معیشت کے لیے “گیم چینجر” ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل بھارت سمیت ان ممالک پر تنقید کی ہے جو امریکی مصنوعات پر زیادہ ٹیرف عائد کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ممالک امریکی کارکنوں اور کاروباروں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ “بدقسمتی سے، ان ممالک نے طویل عرصے سے ہمارے ملک کو لوٹا ہے اور انہوں نے امریکی کارکنوں کے لیے اپنی نفرت کو واضح کر دیا ہے۔انہوں نے بھارت کے 100 فیصد زرعی ٹیرف کے علاوہ دیگر ممالک کے ٹیرف کا حوالہ دیا، جیسے کہ یورپی یونین کا امریکی دودھ کی مصنوعات پر 50 فیصد، جاپان کا امریکی چاول پر 700 فیصد، اور کینیڈا کا امریکی مکھن اور پنیر پر تقریباً 300 فیصد ٹیرف۔ٹرمپ نے اس سے قبل رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ موجودہ ٹیرف “عارضی اور چھوٹے” ہیں، لیکن 2 اپریل سے نافذ ہونے والے “جوابی ٹیرف” بڑے پیمانے پر ہوں گے اور امریکی معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اسے امریکی مصنوعات کے تحفظ اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے ضروری قرار دیا۔

بھارت کا ردعمل اور مذاکرات

بھارت نے اس ممکنہ جوابی ٹیرف سے بچنے کے لیے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات چیت تیز کر دی ہے۔ بھارتی حکام نے تجویز دی ہے کہ وہ 23 بلین ڈالر مالیت کے امریکی درآمدات پر ٹیرف کم کرنے کے لیے تیار ہیں، جو امریکی مطالبات کے جواب میں ایک اہم پیشکش ہے۔ ان مصنوعات میں زرعی اشیا جیسے بادام، اخروٹ، کرین بیری، اور بوربن وہسکی شامل ہیں۔ بھارت نے فروری 2025 میں بوربن وہسکی پر ٹیرف 150 فیصد سے کم کر کے 100 فیصد کیا تھا، جو اس سلسلے میں ایک ابتدائی قدم تھا۔

تاہم، بھارت نے زراعت کے حساس شعبوں جیسے گندم، مکئی اور دودھ کی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ یہ مقامی کسانوں کے مفادات سے جڑے ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی زراعت زیادہ تر معاش کے لیے ہے، نہ کہ خالصتاً تجارتی مقاصد کے لیے، اور اسے امریکی زراعت کے مقابلے میں مساوی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ ایک سرکاری ذریعے کے مطابق، بھارت ان اشیا پر ٹیرف کم کرنے پر غور کر رہا ہے جو مقامی پیداوار پر کم اثر ڈالیں، جیسے کہ کچھ پھل اور گری دار میوے۔

امریکی جوابی ٹیرف کا ممکنہ اثر

بھارت کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ اس کے 66 بلین ڈالر مالیت کے کل برآمدات کا 87 فیصد حصہ ممکنہ امریکی جوابی ٹیرف سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اس میں دواسازی اور آٹوموبائل کے شعبے بھی شامل ہیں، جو امریکی منڈی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر بھارت اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہ ہوا تو 2 اپریل سے نافذ ہونے والے ٹیرف بھارتی معیشت پر بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب، بھارت اپنی برآمدات کے تحفظ کے لیے ایک دوطرفہ تجارت معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک نے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 500 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جسے “مشن 500” کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے لیے بھارت کم حساس شعبوں میں رعایت دینے پر تیار ہے، لیکن وہ اپنے کسانوں اور مقامی صنعتوں کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔

عالمی ردعمل

امریکہ کے اس اعلان نے دیگر ممالک کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ چین نے پہلے ہی امریکی زرعی مصنوعات جیسے سویا بینز پر 10 سے 15 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جبکہ یورپی یونین نے امریکی سٹیل اور ایلومینیم کے ٹیرف کے جواب میں اپنے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا بتایا گیا ہے۔

فی الحال امریکہ کے اس ٹیریف وار پر تازہ ترین اپ ڈیٹ یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی تجارت کے نمائندے برینڈن لنچ کی سربراہی میں ایک وفد نئی دہلی میں بھارتی حکام سے ملاقات کر رہا ہے تاکہ کل کے ڈیڈلائن سے پہلے کوئی حل نکالا جا سکے۔ بھارتی وزارت تجارت نے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، لیکن ذرائع کے مطابق بھارت ایک مرحلہ وار معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو دونوں فریقوں کے مفادات کو متوازن کر سکے۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک بار پھر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو “سمارٹ اور اپنا اچھا دوست” قرار دیا، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنے ٹیرف کم نہ کیے تو جوابی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اچھی باتیں کی ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ بھارت اور ہمارے ملک کے درمیان چیزیں بہت اچھے طریقے سے طے ہو جائیں گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read