Bharat Express DD Free Dish

Gyanvapi ASI Survey Case: گیانواپی معاملے میں عدالت سے ہندو فریق کو لگا بڑا جھٹکا، اے ایس آئی سروے کی عرضی کو کیا مسترد

سال 1991 میں، ہریہر پانڈے، سومناتھ ویاس اور رام رنگ شرما کی جانب سے گیانواپی مسجد کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد، ہندو فریق کی طرف سے وارانسی کی سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کورٹ میں دو مطالبات رکھے گئے تھے۔

Gyanvapi Case ASI Survey: گیان واپی کے حوالے سے چل رہی عدالتی لڑائی کے درمیان آج جمعہ (25 اکتوبر) ایک بہت اہم دن تھا۔ گیانواپی تنازعہ کو لے کر ہندو فریق کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اب وارانسی کے سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ہندو فریق کی عرضی کو مسترد کر دیا جس میں اے ایس آئی سروے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

گیانواپی کیس پر ہندو فریق کے وکیل وجے شنکر رستوگی نے کہا کہ عدالت نے اے ایس آئی کے ذریعے پورے گیانواپی علاقے کی سیکورٹی کے اضافی سروے کی ہماری عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔ ہم اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ عدالت میں ہندو فریق نے گیانواپی کے مرکزی گنبد کے نیچے شیولنگ کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندو فریق نے یہاں کھدائی کرکے اے ایس آئی کے سروے کا مطالبہ کیا۔ مسلم فریق نے ہندو فریق کی درخواست کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ کھدائی سے مسجد کی جگہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سال 1991 میں دائر کی گئی تھی عرضی

دراصل، سال 1991 میں، ہریہر پانڈے، سومناتھ ویاس اور رام رنگ شرما کی جانب سے گیانواپی مسجد کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد، ہندو فریق کی طرف سے وارانسی کی سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کورٹ میں دو مطالبات رکھے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر وضو خانہ کو کیا گیا سیل

جس میں پہلا مطالبہ یہ تھا کہ وضو خانہ کا اے ایس آئی سروے کرایا جائے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ واقعی وہاں شیولنگ ہے یا کوئی پھووارا۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے 100 فٹ کا شیولنگ ہے۔ ایسے میں مسجد کے ڈھانچے کو نقصان پہنچائے بغیر کھدائی کی جانی چاہیے، تاکہ شیولنگ کے دعوے کا پتہ چل سکے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر وضو خانہ کو سیل کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read