Bharat Express DD Free Dish

Gyanvapi Mosque Case

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی کی طرف سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ مختلف میڈیا چینلوں نے نیوزایجنسی اے این آئی کے حوالے سے بعض اخبارات میں یہ خبرشائع کی ہے کہ مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’گیان واپی مسجد یا متھرا شاہی جامع مسجد کے سلسلے میں دونوں کمیونٹی کے لوگ آپس میں بیٹھ کربات کریں۔‘‘ یہ خبر سراسر بے بنیاد اورغلط ہے۔

گیان واپی مسجد کیس کی آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ شرنگارگوری کیس کی اہم درخواست گزارراکھی سنگھ کی جانب سے عدالت میں سول نظرثانی کی درخواست دائرکی گئی ہے۔ اس عرضی میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے گیان واپی کمپلیکس میں واقع وضوخانہ کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سال 1991 میں، ہریہر پانڈے، سومناتھ ویاس اور رام رنگ شرما کی جانب سے گیانواپی مسجد کے مالکانہ حقوق حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد، ہندو فریق کی طرف سے وارانسی کی سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کورٹ میں دو مطالبات رکھے گئے تھے۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے اس معاملے پر نوٹس جاری کیا اور کسی اور تاریخ پر سماعت کا اشارہ دیا۔ تاہم مسجد کی جانب سے وکیل نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے پوجا پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ پر عدالت کے فیصلے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے جمعہ کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ گیان واپی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہمیں صدمہ پہنچا ہے۔

انجمن انتظامات مسجد کمیٹی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کے دن اپنی دکانیں اور کاروبار بند رکھیں اور خصوصی "جمعہ" کی نماز ادا کریں۔ تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالبتین نعمانی نے ایک اپیل میں کہا، 'وارنسی کے ضلع جج کے فیصلے کی بنیاد پر گیان واپی مسجد کے جنوبی تہہ خانے (ویاس تہہ خانے) میں پوجا شروع ہو گئی ہے۔

گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ میں پوجا کا اختیار دیئے جانے کے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی نے بند کا اعلان کیا ہے۔ بند کے اعلان سے پولیس انتظامیہ محتاط ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد سے شہر میں پولیس فورس بڑھا دی گئی ہے۔

دو دن پہلے ہی ہندو تنظیم نے گیان واپی مسجد کے سائن بورڈ پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اس سے متعلق محکمہ سیاحت کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی خط لکھا تھا۔

گیان واپی مسجد میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اوربڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی میں پوجا کی رسم ادا کی جا رہی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ پوجا کرنے پہنچ رہے ہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر ممبر مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ اس فیصلے سے مایوسی ضرور ہوئی ہے لیکن اعلیٰ عدالتوں کا راستہ ابھی بھی کھلا ہے۔ ظاہر ہے ہمارے وکلاء اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔