Bharat Express DD Free Dish

JIH Press Conference: بہار اسمبلی انتخابات میں نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ بیانیے اور طاقت کے غلط استعمال کو سختی سے روکا جائے ،  جماعت اسلامی ہند  کا مطالبہ

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار اسمبلی انتخابات اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پراظہار خیال کیا ۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن  آف سول رائٹس (ای پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے سی اے اے مخالف سیاسی کارکنان کی مسلسل قید پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اپنی دانش مندی اور ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جو جمہوریت کی مضبوطی اور منصفانہ معاشرے کے قیام کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کا چناؤ ان کے وژن، کارکردگی، دیانت داری اور عوامی مسائل جیسے غربت، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور انصاف کے بنیاد پر کریں نہ کہ جذباتی، تفرقہ انگیز یا فرقہ وارانہ اپیلوں کی بنیاد پر۔

بہار سیاسی شعور اور سماجی ہم آہنگی کی سرزمین

اس موقع پر جماعت اسلامی ہند نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت انگیز تقریروں ، فرقہ وارانہ پولرائزیشن اور طاقت کے ناجائز استعمال سے گریز کریں۔ نائب امیر نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ انتخابات کو آزاد، منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بہار سیاسی شعور اور سماجی ہم آہنگی کی سرزمین  رہی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بہار کے عوام ایسے امیدواروں کا چناؤ کریں گے جو حقیقی ترقی،حق و انصاف اور امن کے لیے پرعزم ہوں۔

 ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے جنسی جرائم پر گہری تشویش

ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے جنسی جرائم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے تین حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کیا ۔مہاراشٹر میں ایک خاتون ڈاکٹر کی خودکشی جس نے ایک پولیس افسر پر زیادتی کا الزام لگایا تھا، دہلی میں ایک اسپتال کی ملازمہ جو جعلی فوجی افسر کے ذریعے پھنسائی گئی اور ایک ایم بی بی ایس طالبہ کو نشہ دے کر بلیک میل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعات تنہا نہیں بلکہ سماج میں بڑے پیمانے پر آ رہی گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات اس عدم تحفظ کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو ملک کی خواتین کو روزمرہ کی زندگی میں درپیش ہے۔

’سخت قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ خدا کا خوف بھی ضروری‘

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی)   کی رپورٹ’ کرائم ان انڈیا 2023 ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں خواتین کے خلاف 4,48,211 مقدمات درج ہیں، انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین کے تحفظ میں ناکامی نہایت تشویشناک ہے۔اس ضمن میں جماعت اسلامی ہند نے تیز رفتار عدالتی کارروائی، متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی،  پولیس، عدلیہ و صحت کے شعبے میں وسیع تر صنفی تحفظ کی تربیت و حساسیت کا مطالبہ کیا۔ تاہم پروفیسر سلیم نے خبردار کیا کہ صرف قوانین کافی نہیں ہیں۔ ہمیں سخت قوانین کے ساتھ  ساتھ ایک اخلاقی عوامی بیداری کی تحریک کی بھی ضرورت ہے تاکہ احترام، وقار، خدا کے خوف پر مبنی سماجی اقدار کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔

اینٹی سی اے اے کارکنوں کی مسلسل نظربندی پر گہری تشویش

 پریس کانفرنس میں اے پی سی آر کے سیکرٹری ندیم خان نے 2020 دہلی فسادات سازش کیس میں قید اینٹی سی اے اے کارکنوں کی مسلسل نظربندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ بے گناہ طلبہ اور کارکنان پانچ سال سے زائد عرصہ سے بغیرکسی مقدمہ کے جیلوں میں بند ہیں۔ یہ دراصل عدالتی عمل کے ذریعے سزا دینے کے مترادف ہے، جو اس اصول کے منافی ہے کہ ضمانت قاعدہ ہے، قید استثنا۔انہوں نے دہلی پولیس کی جانب سے ضمانت کی مخالفت پر تنقید کی، خاص طور پر اس کے اس دعوے پر کہ دہلی فسادات حکومت گرانے کی سازش کا حصہ تھے۔

یو اے پی اےکے غلط استعمال سے ایک جمہوری احتجاج کو مجرمانہ فعل بنا دیا گیا؟

ندیم خان نے کہا کہ واٹس ایپ چیٹس، احتجاجی تقریریں اور اختلاف رائے کو دہشت گردی قرار دینا آئین کے بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یو اے پی اےکے غلط استعمال سے ایک جمہوری احتجاج کو مجرمانہ فعل بنا دیا گیا ہے ۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read