Bharat Express DD Free Dish

CAA

وزیر اعظم  مودی نے اس موقع پر شہریت ترمیمی قانون 2019 کے نفاذ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کا مقصد متوا جیسی برادریوں کو شہریت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے شیاما پرساد مکھرجی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشرقی بنگال سے آنے والے پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی،

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار اسمبلی انتخابات اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پراظہار خیال کیا ۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن  آف سول رائٹس (ای پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے سی اے اے مخالف سیاسی کارکنان کی مسلسل قید پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔

تمل ناڈوکے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیغمبر اسلام کے 1500ویں یوم پیدائش کے موقع پرایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ڈی ایم کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے وقف ایکٹ، شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، تین طلاق اورفلسطین جیسے مسائل پربھی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر مسلمانوں کوکوئی مسئلہ درپیش ہے، توسب سے پہلی سیاسی جماعت جوان کی مدد کو آتی ہے وہ ڈی ایم کے ہے۔‘‘

دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں قانون پر بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ لاکھوں کروڑوں لوگ CAA سے فائدہ اٹھائیں گے۔ لیکن اب جب کہ ایک سال سے زیادہ ہو چکا ہے ضوابط نافذ ہوئے، دستیاب معلومات اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتیں۔

سی اے اے کے قواعد 11 مارچ 2024 کو نافذ کیے گئے تھے، جو دسمبر 2019 میں منظور شدہ قانون کے نفاذ کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کے افراد کو شہریت دی جانی ہے۔

راجکوٹ کی بھونا بین مہیشوری نے کہا کہ ’’میں نے پاکستان میں بہت تکلیفیں جھیلیں، لیکن آج میں فخر سے خود کو بھارتی کہتی ہوں۔‘‘

چندر موہن پٹواری نے اسمبلی کو یہ بھی بتایا کہ 39 درخواستوں میں سے 18 کی جانچ جاری ہے او ر بقیہ 19 درخواستیں مسترد کر دی گئیں ہیں، تاہم درخواست دہندگان شہریت کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔

مسلم باشندوں کے ایک بڑے حصے کو خدشہ ہے کہ انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آل انڈیا متوا مہاسنگھ کے جنرل سکریٹری مہتوش بیدیا نے اعتراف کیا کہ سی اے اے کو لے کر مسلمانوں کے ایک حصے میں غصہ اور الجھن ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ میں این آر سی کی اجازت نہیں دوں گی۔ آسام میں 19 لاکھ ہندو بنگالیوں کے نام فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔

چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پربیر پورکایست شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف احتجاج کرنے کی آڑ میں غلط معلومات پھیلانے کی مہم میں ملوث تھے۔