پٹنہ میں نیٹ کی طالبہ کی موت کے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے کلوزر رپورٹ داخل کر دی ہے۔ طالبہ کی موت کے بعد تقریباً 8 ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے باوجود سی بی آئی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ تفتیش کے دوران 30 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، لیکن طالبہ کے کپڑوں پر ملے سیمین کے نمونے کے بارے میں بھی کوئی حتمی سراغ نہیں مل سکا۔ اب اس معاملے میں 13 اکتوبر کو پٹنہ سول کورٹ میں کلوزر رپورٹ پر بحث ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر سریش پرساد نے بتایا کہ سی بی آئی کو معاملے میں کوئی قابل ذکر ثبوت نہیں ملا ہے۔ تاہم عدالت کی جانب سے دوسرے فریق کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، تاکہ کلوزر رپورٹ پر ان کے اعتراضات معلوم کیے جا سکیں۔
13 اکتوبر کو عدالت میں سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ پر بحث ہوگی۔ بحث کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کہ رپورٹ کو قبول کیا جائے یا معاملے میں مزید تفتیش کا حکم دیا جائے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد آیا نیا موڑ
طالبہ کی موت 6 جنوری 2025 کو ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر پٹنہ پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے پہلے ہی پولیس نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ طالبہ کی موت میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اور یہ نشہ آور دوا کی زیادہ مقدار لینے کے باعث ہوئی۔ تاہم 15 جنوری کو سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے معاملے کو نیا رخ دے دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جنسی تشدد کے امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ فارنسک جانچ کے دوران طالبہ کے کپڑوں سے سیمین ملنے کی بات سامنے آئی تھی۔
عدالت کی پھٹکار کے بعد پوکسو کی دفعات شامل
پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملہ سنگین ہو گیا اور پٹنہ سے جہان آباد تک لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ زور پکڑنے کے بعد سی بی آئی نے کیس اپنے ہاتھ میں لے کر تفتیش شروع کی۔ عدالت کی پھٹکار کے بعد اس معاملے میں پوکسو ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔ 12 فروری کو سی بی آئی کی جانب سے کیس ٹیک اوور کیے جانے کے بعد تحقیقات میں تیزی لائی گئی۔ تاہم دو الگ الگ سی بی آئی تفتیشی افسران کے پاس معاملہ جانے کے باوجود تفتیش کسی ایسے نتیجے تک نہیں پہنچ سکی جس سے طالبہ کے کپڑوں پر ملے سیمین کے نمونے کی شناخت ہو سکے۔سی بی آئی نے اس دوران 30 افراد کے ڈی این اے نمونے لیے، لیکن تفتیشی ایجنسی یہ معلوم نہیں کر سکی کہ طالبہ کے کپڑوں پر ملے سیمین کا نمونہ کس شخص کا تھا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
6 جنوری 2025 کو پٹنہ کے شمبھو گرلز ہاسٹل میں رہنے والی نیٹ طالبہ اپنے کمرے میں بے ہوش پائی گئی تھی۔ بعد میں اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔معاملہ بڑھنے کے بعد پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے سے پہلے ہی طالبہ کی موت کو نشہ آور دوا کی زیادہ مقدار سے جوڑ دیا تھا۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم اور فارنسک رپورٹ نے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ فارنسک جانچ میں طالبہ کے زیر جامہ پر سیمین ملنے کی بات سامنے آئی، جس کے بعد معاملہ سی بی آئی تک پہنچا۔ طالبہ کے اہل خانہ کے مطابق 5 جنوری 2025 کو وہ جہان آباد واقع اپنے گھر سے ہاسٹل واپس آئی تھی۔ اس کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی۔ 6 جنوری کی دوپہر اسے کمرے کے اندر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



