پاکستان کو آئی ایم ایف قرض ملنے پر کانگریس نے مودی حکومت پر سوال اٹھایا ہے۔
ہندوستان نے پاکستان کو دیئے جانے والے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) قرض کے خلاف ووٹنگ سے دوری بنالی۔ اس پر کانگریس نے سوال اٹھایا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا ہے کہ کانگریس نے 29 اپریل کو ہی مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستان، پاکستان کو دیئے جا رہے آئی ایم ایف قرض کے خلاف ووٹنگ کرے، جس پر آج آئی ایم ایف کی ایگزیکٹیو بورڈ میں غورکیا گیا۔ مگرہندوستان نے ووٹنگ سے دوری بنائی۔ اس نے خود کو الگ رکھا۔ مودی حکومت پیچھے ہٹ گئی۔ وہاں ایک مضبوط ‘NO’ کا ووٹ ایک مضبوط پیغام دیتا۔
भारतीय राष्ट्रीय कांग्रेस ने 29 अप्रैल को ही मांग की थी कि भारत पाकिस्तान को दिए जा रहे IMF ऋण के खिलाफ मतदान करे, जिस पर आज IMF की एक्सक्यूटिव बोर्ड में विचार किया गया। लेकिन भारत ने मतदान से दूर रहकर खुद को अलग रखा।मोदी सरकार पीछे हट गई। वहां एक मजबूत ‘NO’ का वोट एक सशक्त संदेश… https://t.co/CoRaUjRLbQ
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) May 9, 2025
29 اپریل کو کانگریس نے کیا کہا تھا؟
آئی ایم ایف نے اعلان کیا تھا کہ اس کی ایگزیکٹیو بورڈ کی میٹنگ 9 مئی 2025 کو منعقد ہوگی، جس میں لچک اور پائیداری کی سہولت کے تحت پاکستان کو 13,000 لاکھ ڈالر کے نئے قرض کی گزارش پر غور کیا جائے گا۔ کانگریس امید کرتی ہے کہ ہندوستان، آئی ایم ایف کے ذریعہ پاکستان کے لئے مجودہ اس امداد کے لئے مضبوطی سے مخالفت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: IMF Loan To Pakistan: آئی ایم ایف نے پاکستان کو دیا ایک بلین ڈالر کا بلیک آوٹ پیکیج، شہباز شریف نے کہا- شکریہ
آئی ایم ایف نے پاکستان کو دیا 1.3 ارب ڈالر کا قرض
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری دے دی اور اس کی پہلی قسط (ایک ارب ڈالر) جاری بھی کردی۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا۔ ہندوستان نے اس سے پہلے پاکستان کو دیئے جانے ولاے قرض کی مخالفت کی تھی۔ اس دوران ہندوستان نے خراب ریکارڈ کا حوالہ دیا تھا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے 7 ارب ڈالر کے لون کے جائزہ کے بعد 1.3 ارب ڈالر کی پہلی قسط کو منظوری دی ہے۔ یہ لون 2 سال کی مدت کے لئے دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


