Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan conflict

دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو لکھے گئے اس کھلے خط پر دستخط کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل جاری کشیدگی کی سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس سے ان کے مواقع، ترقی اور محفوظ مستقبل متاثر ہو رہی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے گزشتہ سال پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ تمام بات چیت معطل کر دی تھی۔ پاکستان کے ساتھ اب کوئی سیاسی، تجارتی یا سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے اب تک دنیا کے آٹھ بڑے جنگی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم ممکنہ جوہری جنگ میں مداخلت نہ کرتے، تو تین کروڑ افراد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی موت ہو جاتی‘‘۔

چین کے اس تازہ دعوے کے بعد ایک بار پھر بحران کے دوران اس کے کردار پر سوال اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ چین پاکستان کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے اور اس کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بھی ہے۔

وزیراعظم نے کہا ’’آج میرے ایک طرف لامحدود آسمان ہے اور دوسری طرف طاقت کی علامت آئی این ایس وکرانت۔ سمندر پر سورج کی روشنی کی جھلکیاں ان دیوالی کے دیوں کی مانند ہیں جو ہمارے بہادر سپاہیوں نے روشن کیے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ اس بار میں بحریہ کے ان بہادر جوانوں کے درمیان دیوالی منا رہا ہوں۔‘‘

ہریش نے کہا کہ یہ کارروائی سلامتی کونسل کے اس بیان سے متاثر تھا، جس میں پہلگام حملے کے قصورواروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور اسپانسرز کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس آپریشن کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں واقع دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے پاکستان کودہشت گردی کے حوالے سے سخت وارننگ دی ہے۔ انڈس واٹرٹریٹی کی معطلی کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کواس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ منوج سنہا نے کہا کہ ہندوستان کسی بھی قیمت پردہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ڈونالڈ ٹرمپ پہلے بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی، حالانکہ بھارت نے ان کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، جب کہ پاکستان نے انہیں کریڈٹ دیتے ہوئے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا ہے۔

پاکستان نے 18 گھنٹے کی لڑائی 8 گھنٹے میں ہی ختم کردی۔ ہندوستان کے سی ڈی ایس انل چوہان نے بڑا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 8 مئی کو ہی جنگ ہارگیا تھا۔

س میں اگنی 5 اور براہموس میزائل شامل ہیں۔ برہموس کی رینج تقریباً 600 کلومیٹر ہے۔ ساتھ ہی اس کی رفتار 3700 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

'ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، ہمارا مقصد بہت اہم اور خاص تھا اور یہ قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا تھا،