Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan conflict

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران بی ایس ایف کے جوان پورنم کمار شا کو پاکستان سے رہا کر دیا گیا اور انہیں اٹاری- واگھہ سرحد پر بھارت کے حوالے کیا گیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس معاملے پر اپنا ردِعمل دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پھردوہرایا ہے کہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان امریکہ نے سیز فائر کروایا تھا۔ سعودی عرب کے دورہ پرگئے ٹرمپ نے یہ بات آج ریاض میں کہی ہے۔

شہید کے اہل خانہ سے کی ملاقات، آپریشن سندور میں شہید ہوئے تھے محمد امتیاز، آرایس پورا سیکٹر میں تھی تعیناتی، شہید جوان کو کل ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ محمد امتیاز کی اہلیہ نے ریاستی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ان کے شوہر کے نام سے ایک اسپتال بنایا جائے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی تھی۔ امریکی مداخلت کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت ہوئی۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، ہندوستان نے’آپریشن سندور‘ شروع کیا اورپاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کوتباہ کر دیا، جس میں تقریباً 100 دہشت گرد مارے گئے۔ بی جے پی آپریشن سندھ کی کامیابی کا جشن منانے کے لئے 13 سے 23 مئی تک ملک گیر ترنگا یاترا منعقد کرے گی۔ یہ یاترا ’آپریشن سندور‘ کی کامیابی اور قومی یکجہتی کا پیغام دے گا۔

بھارتی فضائی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی حکمت عملی کا اظہار، یہ کارروائیاں”نپی تلی، محدود اور غیر اشتعالی“ نوعیت کی تھیں۔

آپریشن میں دیسی آکاش سسٹم استعمال کیا گیا۔ پاکستان کا چینی نژاد میزائل پی ایل-15 مارگرایا گیا۔ پاکستان کی ڈرون لیزرگن کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ پاکستان کے نورخان ایئربیس کو بھی تباہ کردیا گیا۔

آپریشن سندورپرتینوں افواج کی پریس کانفرنس شروع ہوگئی ہے۔ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے ایئرفورس نے کہا، دہشت گردی کے خلاف ہمارا آپریشن کامیاب رہا۔

وزیراعظم نریندرمودی کی رہائش گاہ پر وزیردفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال، سی ڈی ایس اورتینوں افواج کے سربراہ کے ساتھ چل رہی ہائی لیول میٹنگ ختم ہوگئی ہے۔

ٹریومنٹ کے سی ای او آلوک کے سنگھ نے کہا ہے کہ "پاکستان، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے، ہم نے ٹریومنٹ میں ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ ہم نے ترکی اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کے ہندوستانیوں کی کال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"