Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan conflict

سیما حیدر کی بہن ریما نے وزیر اعظم مودی اور سی ایم یوگی سے مدد کی اپیل کی ہے۔ وہ رو رو کر التجا کر رہی ہے کہ اس کی بہن کو پاکستان بھیج دیا جائے تاکہ سیما کے بچے محفوظ رہیں۔

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے جنوبی کشمیر میں 20 مقامات پر چھاپے مار کر ایک سلیپر سیل ماڈیول کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس دوران بھاری مقدار میں قابل اعتراض اشیاء برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے تحت دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے کے بعد پاکستان کو بھی آگاہ کیا تھا۔ یہ معلومات 7 مئی 2025 کی صبح ڈی جی ایم او کی سطح پر دی گئی۔

وکرم مسری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ہندوستانی فوج پورے عزم کے ساتھ جواب دے رہی ہے اور سرحد پر ہونے والی تجاوزات کو روکنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ’انتہائی قابل مذمت ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

ہندوستان نے واضح طور پر کہا کہ سری نگر، گجرات کے کچھ حصوں اور راجستھان کے باڑمیر سمیت جموں و کشمیر کے الگ الگ مقامات پر پاکستانی ڈرون دیکھے گئے۔ جس کے بعد انہیں روکا گیا۔ اتنا ہی نہیں کئی سرحدی علاقوں میں پھر سے بلیک آؤٹ کرنا پڑا۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اس تنازعے میں اپنے عزیزوں کو کھویا۔ ہم حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرے اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں اور کمیونٹیوں کو پیش آئے معاشی نقصان اور ذرائع روزگار کی تباہی کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، وزارت دفاع نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ واٹس ایپ پر پھیلنے والی فرضی خبروں سے محتاط رہیں اور صرف معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔ وزارت نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے آفیشل واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔

کیا ہم پاکستان کو مستقبل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے روکنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں، یا ہمارا مقصد صرف جنگ بندی تھا؟

سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے کہا تھا کہ شام پانچ بجے سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ وکرم مسری نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او نے ہفتہ کی دو پہر فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی شرائط پر جنگ بندی کی ہے اور دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو پھر سے بات کریں گے۔

سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے کہا کہ ہندوستان نے پاکستان سے ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے کو کہا ہے۔ ہندوستانی فوج بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر چوکس ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔