کانگریس لیڈر سندیپ دکشت
نئی دہلی: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہفتہ کے روز جنگ بندی کے اعلان کا دہلی کانگریس کے سینئر لیڈر سندیپ دکشت نے خیر مقدم کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنگ بندی کے متعلق بیرونی طاقتوں کی مداخلت پر سوال بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
دہلی کانگریس کے لیڈر سندیپ دکشت نے کہا، ’’اگر کہیں بھی امن قائم ہوتا ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ لیکن جس طرح سے یہ ہوا اس پر سوال کھڑا ہوتا ہے۔ حکومت بار بار کہہ رہی تھی کہ اگر پاکستان حملہ کرتا ہے تو ہم جوابی کارروائی کریں گے اور اگر اس پر پاکستان راضی ہوتا ہے تو جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ کسی بیرونی طاقت کی مداخلت سے یہ ہوا، مجھے یہ بات ٹھیک نہیں ہوا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اہم بات یہ ہے کہ ہم آگے کیا قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ آگے پھر دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے والے ہیں۔ کیا امریکہ کی طرف سے کوئی اور بھی پہل ہونے والی ہے؟ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ اپنی حرکت بند کرے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا، ’’ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں رہے ہیں، لیکن پاکستان نے ہمیں دشمن کی طرح دیکھا ہے۔ اگر امن قائم کرنا ہے اور مل جل کر رہنا ہے تو اسے دہشت گردانہ سرگرمیاں روکنا ہوں گی۔ اگر جنگ بندی سے کوئی مثبت بات سامنے آتی ہے تو وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کی شروعات ہوئی ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہفتہ کی شام جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن چند ہی گھنٹوں میں پاکستان نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں دوبارہ ڈرون حملے کئے۔
اس سے قبل سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے کہا تھا کہ شام پانچ بجے سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ وکرم مسری نے کہا کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او نے ہفتہ کی دو پہر فون پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنی شرائط پر جنگ بندی کی ہے اور دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز 12 مئی کو پھر سے بات کریں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

