Bharat Express DD Free Dish

Yogi Government

اترپردیش حکومت کوہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے 5000 پرائمری اسکولوں کے انضمام کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی درخواستیں خارج کردیں۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ قدم وسائل کے بہتراستعمال اورتعلیم کے معیارمیں بہتری کے لئے اٹھایا گیا ہے، جسے عدالت نے ایک پالیسی سمجھا اوراسے درست قراردیا۔

یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران عباس انصاری نے مئومیں ایک انتخابی ریلی میں مبینہ طور پراشتعال انگیزتقریرکی تھی۔ ان کی تقریر میں سرکاری اہلکاروں کودھمکیاں ملتی تھیں۔

بھیم آرمی کے چیف اور رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد پریاگ راج میں ہوئے تشدد معاملے میں نے کہا کہ ہمارے کارکنان، آئین میں یقین رکھتے ہیں اوروہ تشدد میں شامل نہیں ہوتے۔ اگرحکومت، پولیس یا انتظامیہ کسی کوجان بوجھ کرنشانہ بنائے گی توہم خاموشی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے اورلکھنؤ میں بڑا آندولن کریں گے۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل کی طرف سے سی ایم یوگی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2024-2025 میں 5.43 لاکھ کروڑ مالیت کے 72 لاکھ سے زیادہ خریداری کے آرڈر مکمل ہوئے،

جماعت اسلامی ہند اترپردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں، گھروں اورتعلیمی اداروں خصوصاً مدارس کو غیر قانونی اورغیرانسانی طورپرمنہدم کرنے کے مسلسل عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مدارس کو کمزور وجوہات کی بنیاد پر انہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ مدراس مسلمانوں کی پہچان ہیں اور ہم اپنی اس پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے۔ ’تحفظ مدارس کنونشن‘ میں انہوں نے کہا کہ مدارس سے ہی ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کی پہلی آواز اٹھی تھی، لیکن سازش کے تحت اب اسے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جامعہ نگرکے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سینچائی محکمہ کو مرادی روڈ، خضربابا کالونی، جامعہ نگر، اوکھلا میں خسرہ نمبر 277 میں واقع ان کی متعلقہ جائیداد کومنہدم کرنے سے روکنے کا حکم دینے کا مطالبہ کیا تھا۔دراصل،  اترپردیش سنچائی محکمہ نے علاقے میں کئی دوکانوں اور مکانوں پرغیرقانونی تعمیرات کا دعویٰ کرتے ہوئے  نوٹس لگادیا گیا تھا اور 5 جون تک خالی کرنے کو کہا تھا۔

جامعہ نگر کے 115 باشندوں نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے اترپردیش سنچائی محکمہ کی انہدامی کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں جامعہ نگر کے لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

کانگریس مائنارٹی سیل کے نیشنل میڈیا انچارج نے کہا کہ جب تک حکومت ایسے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتی رہے گی، تب تک معصوم اقلیتوں پراس طرح کے حملے اور قتل عام نہیں رکیں گے۔ ملک اور ریاست کی بی جے پی حکومتوں کو مذہب سے اوپراٹھ کرملک کے آئین کے مطابق ملک کے شہریوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا اورجب اکثریت اقلیتوں پرظلم کرے گی توآگے بڑھ کر ایماندارانہ قانونی کارروائی کرنی ہوگی۔

جمعیۃعلماء ہند نے اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ’کل ہند تحفظ مدارس کنونشن‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں مسالک سے بالاتر ہو کر مدارس کے ذمہ داران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی۔