Bharat Express DD Free Dish

Yogi Government

ایس پی صدر نے کہا کہ اس وقت یوپی حکومت کی اس اسکیم کا امتحان ہے کہ بھدوہی، مراد آباد یا کانپور کے کاروبار کو یا یوپی میں دوسری ریاستوں کے کاروبار ہیں جو ٹیرف کی وجہ سے مشکل میں ہیں، ان کی مدد کون کرے گا؟ یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے۔

اترپردیش اوراتراکھنڈ حکومت کوسپریم کورٹ نے کانوڑ یاترا کے دوران ڈھابوں پرکیوآرکوڈ لازمی قراردینے کے حکم پر راحت دی ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ یاترا اختتام پرہے اورڈھابہ مالک قانونی دفعات پر عمل کریں گے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حکم مذہبی امتیاز کو فروغ دیتا ہے اور سپریم کورٹ کے گزشتہ سال کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب تک کیس کی سماعت مکمل نہیں ہوجاتی۔ سپریم کورٹ اترپردیش حکومت کو ہدایت دے کہ وہ اس ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں کوئی کارروائی نہ کرے۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کی طرف سے داخل ٹرانسفرعرضی کوخارج کردیا ہے۔ اعظم خان نے اپنی عرضی میں اترپردیش میں چل رہے سبھی مقدمات کا ٹرائل ریاست سے باہر کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یوپی اے ٹی ایس نے حال ہی میں چھانگربابا اوران کے معاون نیتوعرف نسرین کوبلرام پورسے گرفتارکیا ہے۔ اس کے ساتھ غیرقانونی طریقے مذہب تبدیلی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔

سوامی یشویرمہاراج کا ایک اورمتنازعہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے کانوڑ بنانے والے مسلمانوں کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی ہری دوار سے اس بار کانوڑ نہ خریدنے کی اپیل کی ہے کیونکہ وہاں مسلم طبقے کے لئے 90 فیصد کانوڑبنا رہے ہیں۔

یوپی کے بلرام پورمیں غیرقانونی مذہب تبدیلی کے الزام میں گرفتار جمال الدین عرف چھانگربابا کی حویلی پربلڈوزرچلا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ حویلی گرام سبھا کی زمین پربنائی گئی تھی۔ پولیس کی موجودگی میں یہ بلڈوزرکارروائی کی گئی۔

اترپردیش حکومت کوہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے 5000 پرائمری اسکولوں کے انضمام کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی درخواستیں خارج کردیں۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ قدم وسائل کے بہتراستعمال اورتعلیم کے معیارمیں بہتری کے لئے اٹھایا گیا ہے، جسے عدالت نے ایک پالیسی سمجھا اوراسے درست قراردیا۔

یوپی اسمبلی انتخابات کے دوران عباس انصاری نے مئومیں ایک انتخابی ریلی میں مبینہ طور پراشتعال انگیزتقریرکی تھی۔ ان کی تقریر میں سرکاری اہلکاروں کودھمکیاں ملتی تھیں۔

بھیم آرمی کے چیف اور رکن پارلیمنٹ چندرشیکھر آزاد پریاگ راج میں ہوئے تشدد معاملے میں نے کہا کہ ہمارے کارکنان، آئین میں یقین رکھتے ہیں اوروہ تشدد میں شامل نہیں ہوتے۔ اگرحکومت، پولیس یا انتظامیہ کسی کوجان بوجھ کرنشانہ بنائے گی توہم خاموشی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے اورلکھنؤ میں بڑا آندولن کریں گے۔