Bharat Express DD Free Dish

Uniform Civil Code

یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے مسئلے پر اسعد مدنی نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک مکمل دستاویز نہیں دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے ذمہ دار افراد اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی اس پر باضابطہ ردعمل دیں گے۔

ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ آئین اور قوانین میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، لیکن مذہب بھی ایک طرح کا آئین ہے، جس میں مداخلت درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں کئی جگہوں پر قبائلی طبقات کو باہر رکھا گیا ہے، اس لیے وہ اس قانون کو پسند نہیں کریں گے۔

گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے 24 مارچ 2026 کو بل اسمبلی میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگا اور ریاست کے شہریوں کی مساوی انصاف کی توقعات اور حقوق کی عکاسی کرتا ہے۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی نریندراورجسٹس آلوک مہرا کے سامنے آج جب یہ معاملہ بینچ کے سامنے پیش ہوا تو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے مزید مہلت دینے کی درخواست کی، جس پرعدالت نے فیصلہ صادرکیا کہ آئندہ 15 اکتوبر کو عدالت اس معاملہ پر باضابطہ سماعت کرے گی۔

وزیرقانون کرن رجیجو نے کہا کہ ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ آدیواسیوں کواس سے چھوٹ دی جائے گی۔ آدیواسیوں کو اپنے طریقے سے جینے کی آزادی دی جائے۔ یکساں سول کوڈ شیڈول 6، شیڈول 5، شمال مشرقی اورملک کے دیگرقبائلی علاقوں میں لاگو نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس اتراکھنڈہائی کورٹ جی نریندر اورجسٹس آلوک مہرا نے سینئر ایڈوکیٹ کی درخواست کو قبول کرتے ہو ئے مقدمہ کی سماعت 23 ستمبرکوکئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کوبھی حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت سے قبل جمعیۃ علماء ہند ودیگرکی پٹیشن پراپنا جواب داخل کرے۔

پٹیل نے کہاکہ کمیٹی کو اب تک 19 لاکھ تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ لوگ ویب سائٹ، ای میل اور پوسٹ کے ذریعے اپنی رائے بھیج رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے 38 مسلم تنظیموں سے بات چیت کی ہے جن میں سے 21 سورت اور 17 دہلی سے ہیں۔

اس کیس میں ایک مسلم خاتون کی جائیداد کے تنازعہ پر بحث ہوئی، جہاں اس کی بہن کو بھائیوں کے مقابلے میں کم حصہ ملا۔ عدالت نے اسے خواتین کے درمیان امتیازی سلوک کی ایک مثال قرار دیا اور کہا کہ یونیفارم سول کوڈ اس طرح کے فرق کو ختم کر سکتا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایک سیکولر آئین کے موجود رہتے ہوئے جس طرح یہ قانون لایا گیا وہ جانبداری، امتیاز اور تعصب کا مظہر ہے ہی نہیں آئین کی بعض دفعات کا حوالہ دے کرجس طرح قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مجروح اورختم کرنے کی غرض سے ہی یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ آئی پی سی کی دفعات بھی پورے ملک میں یکساں نہیں ہیں، ریاستوں میں اس کی نوعیت تبدیل ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ ملک میں گؤکشی کا قانون بھی ایک نہیں ہے، جوقانون ہے وہ پانچ ریاستوں میں نافذ نہیں ہے۔