Bharat Express DD Free Dish

Uniform Civil Code

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ جب سے وہ سیاست میں ہیں، انہوں نے دیکھا ہے کہ کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی جب اختلافات کی وجہ سے دو گروپ بن جاتے ہیں تو پہلے انتخابی نشان کو منجمد کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کے معاملے میں بھی صورت حال ایسی ہی ہے۔ دو گروپ بن گئے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف اپنے دعوے پیش کر رہے ہیں،

امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں یکساں شہری ضابطہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد جمعیت علماء ہند کے صدر نے اعتراض درج کرایا

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم پرکاش راج بھر نے کہا  کہ ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کریں۔

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں کر سکتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن اپنے مذہب اور دین سے ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔

ملک بھر میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو لے کر بحث جاری ہے۔ اسی دوران جے ڈی یو کے اندر بھی بڑی تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ پارٹی کا نام تبدیل کرکے ’جے ڈی یو نتیش‘ کیا جاسکتا ہے۔ ان قیاس آرائیوں کے درمیان 18 ستمبر کو جے ڈی یو کی ایک بڑی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

بل کی منظوری کے ساتھ مدھیہ پردیش یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی سمت میں ملک کی چوتھی ریاست بن گیا ہے۔ اس سے قبل فروری 2024 میں اتراکھنڈ، مارچ 2026 میں گجرات اور مئی 2026 میں آسام اپنی اسمبلیوں سے یو سی سی بل منظور کرچکے ہیں۔ ریاستی وزیرگوتم ٹیٹوال نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون کا مقصد شادی، طلاق، گود لینے اورجائیداد کی وراثت جیسے شہری معاملات میں تمام شہریوں کے لئے یکساں اورغیر جانبدارقانون نافذ کرنا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے صنفی انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون نہ صرف مذہبی آزادیوں پر اثر انداز ہوگا بلکہ خواتین، خاص طور پر بیٹیوں کے وراثتی حقوق کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ  امت شاہ نے یو سی سی متعلق اپنے ایک بیان میں کہا کہ قبائلی برادری کی روایات اور حقوق کا مکمل احترام کیا جائے گا، اس کی پابندی قبائلی سماج پر لاگو نہیں ہوگی۔

امت شاہ نے اپنے خطاب میں مذہب تبدیلی کے مسئلے پر بھی دوٹوک موقف اختیار کیا۔ انہوں نے بغیر کسی تنظیم یا گروہ کا نام لیے کہا کہ آئین ہر شہری کو اپنے مذہب اور روایات کے ساتھ عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، لیکن لالچ، دھوکے یا زبردستی مذہب تبدیل کرانا کسی کو بھی قبول نہیں ہونا چاہیے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یو سی سی کے حوالے سے ممتا بنرجی کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ آئین کی روح کے مطابق ایک ضروری قدم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں قوانین مذہب کی بنیاد پر ہونے چاہئیں یا پھر سبھی شہریوں کے لیے برابر ہونے چاہئیں۔