Bharat Express DD Free Dish

Tejashwi Yadav

ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کو لے کر بہار میں کئی دنوں سے سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن مہم (SIR) کے ذریعے دلتوں، پسماندہوں، اقلیتوں، قبائلیوں اور مزدوروں کے ووٹ کاٹنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے ’ووٹ بندی‘ کہہ کر احتجاج کر رہی ہیں۔

تیجسوی یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ عمل الیکشن سے صرف دو مہینے قبل کیوں کیا جا رہا ہے، اور الزام لگایا کہ ایسی دستاویزات مانگی جا رہی ہیں جن تک غریب لوگ رسائی نہیں رکھتے۔ انہوں نے مہاگٹھ بندھن کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس غیر منصفانہ عمل کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ نظرثانی عمل خاص طور پر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جبکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن اسے شفافیت کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔

تیجسوی یادو نے آج کے بند کے حوالے سے ایک پوسٹ کیا ہے۔جس  میں انہوں نے  بہار بند اور چکہ جام میں شامل ہونے اور جمہوریت بچانے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں، پسماندہوں، دلتوں اور اقلیتوں کو ووٹر لسٹ سے نکالنے کی الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

صداقت آشرم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پارٹی کے ریاستی صدر راجیش رام نے کہا کہ چکہ جام موثر رہے گا۔ چکہ جام میں مہا گٹھ بندھن کی تمام جماعتیں شرکت کریں گی۔ ادھر کانگریس نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

تیجسوی نے میڈیا پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’معاف کیجئے، لیکن یہ بھی کہنا پڑے گا کہ میڈیا بھی اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔ اگر ہماری حکومت ہوتی اور ایسے واقعات ہوتے تو میڈیا نے تیجسوی یادو کی کھال نوچ لی ہوتی۔ میڈیا کو کم از کم سچ تو چھاپنا چاہئے۔‘‘

یہ سارا تنازعہ گزشتہ اتوار کو اس وقت شروع ہوا جب تیجسوی یادو نے پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقدہ 'وقف بچاؤ، دستوربچاؤ' ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی طرف سے نافذ وقف قانون پر سخت بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں موجودہ حکومت اقتدار سے باہر ہونے کے راستے پر ہے۔

بہاراسمبلی انتخابات سے قبل تیجسوی یادونے وزیراعلیٰ عہدہ کے امیدوار کے لئے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے انڈیا الائنس کی رضامندی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ انہوں نے حکومت بننے پربہار کو اسکاٹ لینڈ جیسا بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ انہوں نے بی جے پی لیڈران پرسخت حملہ کیا اور انہیں’’چنٹو‘‘ کہا۔

انھوں نے کہا کہ تلنگانہ اور کرناٹک جیسی ریاستیں ہندو او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی کے کوٹے کی قیمت پر مسلمانوں کو ریزرویشن دے رہی ہیں۔

جیتن رام مانجھی نے پوچھا کہ تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو کون الیکشن لڑے تھے؟ میسا بھارتی اور روہنی آچاریہ کون سی تحریک کی پیداوار ہیں؟ ان میں صرف یہ خوبی ہے کہ وہ لالو یادو کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔