Tejashwi Yadav announces to make Rahul Gandhi PM: راہل گاندھی کو اگلی باربنائیں گے وزیراعظم… بہارکے نوادا سے تیجسوی یادو نے کر دیا بڑا اعلان
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اورلوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں بہارمیں ووٹرادھیکاریاترا جاری ہے۔ منگل کو یاترا تیسرے دن نوادہ پہنچی۔ اس دوران آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کی مضبوط حکومت بنے گی اور راہل گاندھی کوملک کا اگلا وزیراعظم بنایا جائے گا۔
Voter Adhikar yatra: بہار کے لوگ کھینی کے ساتھ چونا بھی رگڑ کر کھا جاتے ہیں،اس لئے یہاں ووٹ کی چوری نہیں ہونے دی جائے گی:تیجسوی یادو
تیجسوی یادو نے واضح طور پر کہا کہ جمہوریت کو ختم نہیں ہونے دیا جائے گا اور لوگوں کے حقوق کو نہیں چھیننے دیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ راہل گاندھی اور وہ عوام کے حقوق کے لیے مل کر لڑیں گے۔
Vote Adhikar Yatra: ’’ راہل گاندھی کی ’ووٹ ادھیکار یاترا‘ تاریخی ہوگی… ، این ڈی اے ڈری ہوئی ہے…‘‘ تیجسوی یادو کا حکمراں جماعت پر نشانہ
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ملک میں آبادیاتی تبدیلی کے بیان پر کہا کہ آخر 11 سال سے کیا کر رہے تھے؟ جھارکھنڈ میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا، عوام نے منہ توڑ جواب دیا تھا۔ جب جب الیکشن آتا ہے، انہیں دراندازوں کی یاد آ جاتی ہے۔
Ruckus on SIR: ’’بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کر رہا ہے الیکشن کمیشن…‘‘ تیجسوی یادو نے ای سی آئی کو پھر بنایا نشانہ
اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Tejashwi Yadav accuses the Election Commission: انتخابی عمل میں دھاندلی کیلئے الیکشن کمیشن کو استعمال کررہی ہے بی جے پی ، تیجسوی یادو کا کمیشن پر جانبداری کا الزام
اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
Bihar Politics: بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے سنہا پر دو ای پی آئی سی نمبر رکھنے کا الزام، تیجسوی یادو نے کہہ دی بڑی بات
کانگریس نے کہا کہ یہ فراڈ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ملک بھر میں بی جے پی والوں کو دوہری تہری شہریت دے رہے ہیں۔ کہیں ایک پتہ پر 80-80 ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو کہیں ایک شخص چار بار ووٹ دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی، چور چور موسیرے بھائی۔
Tejashwi writes to the women of Bihar: تیجسوی نے رکشا بندھن پر بہار کی خواتین کو لکھا کھلا خط، کیے کئی وعدے
تیجسوی یادو نے دو صفحوں کا کھلا خط جاری کیا ہے۔ خط میں، سب کو رکشا بندھن کی مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے اپنے انتخابی وعدوں کو شمار کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ ان کے ’تیجسوی بھیا‘ ہر گھر کی ہر بہن کی خوشحالی کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہیں تمام بہنوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
Tejashwi trapped in voter ID controversy: ووٹر آئی ڈی تنازع میں پھنسے تیجسوی یادو! دو شناختی کارڈ پر الیکشن کمیشن نے طلب کیا جواب، بڑھ سکتی ہے مشکل؟
ایسی صورت میں جب الیکشن قریب ہیں اور تیجسوی یادو اپوزیشن کے نمایاں چہرے کے طور پر سرگرم ہیں، یہ تنازعہ ان کی انتخابی اہلیت اور سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اب نظر اس بات پر ہے کہ تیجسوی یادو وضاحت دے کر معاملہ سلجھاتے ہیں یا یہ تنازع انہیں مزید مشکلات میں ڈال دے گا۔
Election Commission rejects Tejashwi Yadav’s claim: تیجسوی یادو کا ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے دعوے کو الیکشن کمیشن نےکیا خارج، آرجےڈی لیڈر نے چھیڑ دیا نیا محاذ
یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Tejashwi Yadav raised questions on SIR: ووٹر لسٹ سے تیجسوی یادو کا نام غائب، آر جے ڈی لیڈر کا بڑا دعویٰ
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام غائب ہے، اب وہ الیکشن کیسے لڑ سکیں گے؟ تیجسوی یادو نے کہا کہ میرا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ اب الیکشن کیسے لڑوں گا؟ تیجسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے SIR کے دوران گنتی کا فارم بھی بھرا تھا۔ اس کے باوجود نام حذف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے گڑبڑ گھوٹالہ قرار دیا۔





