Bharat Express DD Free Dish

Tejashwi Yadav

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اورلوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں بہارمیں ووٹرادھیکاریاترا جاری ہے۔ منگل کو یاترا تیسرے دن نوادہ پہنچی۔ اس دوران آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کی مضبوط حکومت بنے گی اور راہل گاندھی کوملک کا اگلا وزیراعظم بنایا جائے گا۔

تیجسوی یادو نے واضح طور پر کہا کہ جمہوریت کو ختم نہیں ہونے دیا جائے گا اور لوگوں کے حقوق کو نہیں چھیننے دیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ راہل گاندھی اور وہ عوام کے حقوق کے لیے مل کر لڑیں گے۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ملک میں آبادیاتی تبدیلی کے بیان پر کہا کہ آخر 11 سال سے کیا کر رہے تھے؟ جھارکھنڈ میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا، عوام نے منہ توڑ جواب دیا تھا۔ جب جب الیکشن آتا ہے، انہیں دراندازوں کی یاد آ جاتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کمیشن سے دونوں جگہوں سے دنیش سنگھ کے خلاف الگ الگ نوٹس جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بعد مظفر پور کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر دنیش پرساد سنگھ اور ایل جے پی (رام ولاس) کی رکن اسمبلی وینا دیوی کو نوٹس بھی بھیجا ہے۔ نوٹس میں 16 اگست تک جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

کانگریس نے کہا کہ یہ فراڈ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ملک بھر میں بی جے پی والوں کو دوہری تہری شہریت دے رہے ہیں۔ کہیں ایک پتہ پر 80-80 ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو کہیں ایک شخص چار بار ووٹ دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی، چور چور موسیرے بھائی۔

تیجسوی یادو نے دو صفحوں کا کھلا خط جاری کیا ہے۔ خط میں، سب کو رکشا بندھن کی مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے اپنے انتخابی وعدوں کو شمار کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ ان کے ’تیجسوی بھیا‘ ہر گھر کی ہر بہن کی خوشحالی کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہیں تمام بہنوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ایسی صورت میں جب الیکشن قریب ہیں اور تیجسوی یادو اپوزیشن کے نمایاں چہرے کے طور پر سرگرم ہیں، یہ تنازعہ ان کی انتخابی اہلیت اور سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اب نظر اس بات پر ہے کہ تیجسوی یادو وضاحت دے کر معاملہ سلجھاتے ہیں یا یہ تنازع انہیں مزید مشکلات میں ڈال دے گا۔

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام غائب ہے، اب وہ الیکشن کیسے لڑ سکیں گے؟ تیجسوی یادو نے کہا کہ میرا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ اب الیکشن کیسے لڑوں گا؟ تیجسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے SIR کے دوران گنتی کا فارم بھی بھرا تھا۔ اس کے باوجود نام حذف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے گڑبڑ گھوٹالہ قرار دیا۔