Bharat Express DD Free Dish

Syria Civil War

بشار الاسد کو منگل کے روز دمشق کی ایک فوجداری عدالت نے منصوبہ بند قتل کے جرم میں ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ بشار الاسد دسمبر 2024 میں اپنے خاندان کے ہمراہ شام سے فرار ہو گئے تھے، جب حیات تحریر الشام کی قیادت میں اپوزیشن فورسز دمشق کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔ بعد ازاں انہیں روس میں پناہ دی گئی۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی مسلسل اور غیر متزلزل پالیسی کا حصہ ہے۔ سینٹکام نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا مقصد امریکی فوجیوں اور اتحادی افواج پر ہونے والے ممکنہ حملوں کو روکنا، دہشت گرد عناصر کی صلاحیت کو کمزور کرنا

شام کے صدر احمد الشرع تاریخی دورے پر امریکہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ کئی حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ 1946 کے بعد پہلی مرتبہ کسی شامی صدر نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے کہا کہ ساحلی قصبوں بنیاس اور جبلہ کے مضافات اب بھی اسد کے وفاداروں کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسد کا آبائی شہر قردہہ اور آس پاس کے بہت سے علوی دیہات بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شام میں جامع سیاسی منتقلی کے لیے ٹھوس تحریک اس بات کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی کہ ملک کو وہ معاشی مدد ملے جس کی اسے ضرورت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ھیئت تحریر الشام ملیشیا اور دیگر باغیوں سے رابطے میں ہیں، شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظر ثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

شام میں جنگ کی مانیٹرنگ کرنے والے انسانی حقوق کے ادارے ایس اوایچ آرنے کہا ہے کہ جنوب مغربی شام میں درعا کے علاقے میں اسرائیلی فورسیز نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں دوشہری شہید ہوگئے۔ حملوں میں ازرائے شہرمیں 12ویں بریگیڈ کو ہدف بنایا گیا۔

محمد البشیر نے 2007 میں حلب یونیورسٹی سے شعبہ مواصلات میں الیکٹریکل اور الیکٹرانک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، انہوں نے 2011 میں شامی گیس کمپنی سے منسلک گیس پلانٹ میں پریزیشن انسٹرومینٹیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔شام میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ دمشق میں ہندوستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔

ترک صدر طیب اردوغان نے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد اور انکی حکومت نے ترکیہ کی مذاکرات کی پیشکش کو رد کر دیا تھا۔ایک بیان میں ترک صدر نے کہا کہ شام کو تباہ و برباد چھوڑ کر بشار الاسد خود فرار ہوگئے۔