Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پرسماعت جاری ہے۔ جمعہ کوسپریم کورٹ نے نئی درخواستوں پرغورکرنے سے انکارکردیا۔ دوسری طرف مسلم فریق کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے جوابی حلف نامہ داخل کیا تھا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔

درخواست گزار نے کہا کہ جب ہمیں پاکستان کے لیے نوٹس ملا تو ہم چونک گئے۔ یہی نہیں، ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اٹاری بارڈر پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ ہم ملک چھوڑ دیں، جبکہ ہم ہندوستانی ہیں۔

جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ملک کے تئیں آپ کا بھی کچھ فرض ہے۔ اس معاملے پر پورا ملک متحد ہے۔ ایسی باتیں نہ کہی جائیں جس سے مسلح افواج کے حوصلے پست ہوں۔ درخواست گزار نے کہا کہ وہ اس مطالبے پر اصرار نہیں کریں گے۔

مرکزی تفتیشی ایجنسی ای ڈی ریاست میں کوئلے کی کان کنی اور شراب گھوٹالہ کی منی لانڈرنگ کے تحت سیاست دانوں، عہدیداروں اور ان سے وابستہ لوگوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ اس گھوٹالے میں ایک منصوبہ بند غیر قانونی ریکوری اور مالی فراڈ سامنے آیا ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ 30 اپریل کورات 9 بجے سے 9:15 بجے تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بلیک آؤٹ احتجاج کی حمایت کریں، جووقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ہے۔

اترپردیش کی سنبھل شاہی مسجد کے پاس موجود کنویں کے تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ مسلم فریق نے کنویں سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ کنواں مذہبی استعمال کے لئے ہے۔ وہیں، سپریم کورٹ نے کہا کہ سبھی لوگ کنویں کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی عدالت نے 2 ہفتے میں جواب مانگا ہے۔

عرضی گزاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اب عدالت کے پاس ثبوت اور واٹس ایپ ثبوت ہیں۔ سبل نے کہا کہ کمیٹی کی نظر ثانی شدہ رپورٹ کم از کم عرضی گزاروں کو دی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے سڑک حادثے کے متاثرین کے لیے کیش لیس ٹریٹمنٹ پلان بنانے میں تاخیر پر مرکز سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ آپ بڑی-بڑہ شاہراہیں بنا رہے ہیں لیکن بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی حکومت سمیت کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت کے علاوہ نیٹ فلکس، اُلّو ڈیجیٹل لمیٹڈ، آلٹ بالاجی، ایکس (ٹوئیٹر)، میٹا پلیٹ فارم اور گوگل کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔

نیرج کمار نے 2004 کے بدنام زمانہ دھننجے چٹرجی کیس کی مثال دی، جس میں مجرم کو 15 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے جرم میں دوہری سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ موجودہ کیس کی طرح کی صورتحال تھی۔ اس وقت بھی دونوں دفعات کے تحت جرم ثابت ہوا تھا اور عدالت نے حکم دیا تھا کہ مجرم کسی بھی حالت میں سزائے موت سے نہیں بچ سکتا۔