Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری کے خلاف داخل ضمانت عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پوچھا کہ وہ بیان کہاں پرہے، جس میں خاتون افسران کی توہین کی گئی؟

پروفیسر علی خان کو 18 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے خلاف دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس ’’ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے‘‘ کے سخت الزامات کے تحت درج کی گئی تھیں۔

جج نے اپنی الوداعی تقریر کو امید کے پیغام کے ساتھ ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور معاشرے کو مل کر ایک منصفانہ اور مساوی سماج کی تعمیر کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں اور عملے کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے کیرئیر کے دوران ان کا ساتھ دیا۔

سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ وقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال مسلم ہونا ضروری اورجائیداد پرتنازعہ کا نمٹارہ کرنے کا اختیار کلکٹر کو دینے جیسے التزام اگرنافذ ہوگئے توناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج دینے والی عرضیوں پرسپریم کورٹ میں آج سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس مسیح کی بینچ سماعت کررہی ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازعہ ریمارکس دینے والے مدھیہ پردیش حکومت میں وزیروجے شاہ کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک بار سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ میں آج اس معاملے کی جب سماعت ہوئی، تو عدالت نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے ان کے معافی کو بھی قبول نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے وجے شاہ کی گرفتاری پرروک ضرورلگائی ہے، لیکن ایس آئی ٹی کی تشکیل کردی ہے، جواس پورے معاملے کی جانچ کرے گی۔

سری لنکن درخواست گزار کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ سری لنکا ئی  تمل  ہے جو یہاں ویزا پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی جان کو ان کے ملک میں خطرہ ہے۔ درخواست گزار تقریباً تین سال سے بغیر کسی ملک بدری کی کارروائی کے گھر میں نظر بند ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی پرمتنازعہ بیان دینے والے مدھیہ پردیش حکومت میں وزیروجے شاہ کی عرضی پرسپریم کورٹ میں پیرکے روز سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت نے سخت لہجہ اپنایا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ آپ نے بغیرسوچے جوکیا اوراب معافی مانگ رہے ہیں۔

بی آر گوئی نے حال ہی میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا ہے اور وہ اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے ایسے جج ہیں جن کا تعلق دلت طبقے سے ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے الوداعی تقریب نہ رکھنے کی وجوہات واضح نہیں ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ جسٹس تریویدی کے کچھ سخت فیصلوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔