Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

اپنی الوداعی تقریب میں جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ میں نے گزشتہ 50 سالوں میں کئی الوداعی تقاریب میں حصہ لیا، لیکن آج میں بہت خوش ہوں۔ ایک وقت کافی چیلنج رہا، لیکن آج میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے ہندوستان کے چیف جسٹس کے طورپر ریٹائرہونے کا فخرحاصل کیا۔ یہ حقیقت میں ایک خواب پورا ہونے جیسا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت سے چار ہفتوں کے اندر مفصل جواب مانگا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف املاک سے متعلق قوانین کی پاسداری ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہم اس درخواست پر کوئی حکم نہیں دے سکتے ہیں لیکن ’’مناسب کارروائی کے تحت اس کی جانچ کریں گے‘‘۔

پینل نے اپنی رپورٹ 4 مئی کو چیف جسٹس کو پیش کی۔ رپورٹ میں جسٹس ورما کی رہائش گاہ پر نقد رقم کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ جسٹس ورما نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف "سازش" قرار دیاہے۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد، ہندوستانی مسلح افواج نے، ایک سخت جوابی کارروائی میں، منگل (6-7 مئی) کی دیر رات پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، جس میں 100 دہشت گرد مارے گئے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملہ سے متعلق معروف دانشور ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ پاکستان نے حملہ کرایا، اس کا جواب تو دینا ہی چاہئے، لیکن ہمارے ملک کی حکومت کی ناکامی کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ کو ذمہ داری لیتے ہوئے معافی مانگنی چاہئے۔

جمیعۃ علماء ہند کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اگر حکومت عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر قائم رہتی ہے تو معاملے کو ہونے والے نئے چیف جسٹس کی صدارت والی بنچ کو سونپے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مندوبین کو پیغام دیا کہ ملک میں امن امان قائم کرنے کے لئے ہم سبھی کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ارباب مدرسہ اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ پیارومحبت کے پیغام کوآگے بڑھائیں اور ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ کو قائم کریں۔