Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہم اس درخواست پر کوئی حکم نہیں دے سکتے ہیں لیکن ’’مناسب کارروائی کے تحت اس کی جانچ کریں گے‘‘۔

پینل نے اپنی رپورٹ 4 مئی کو چیف جسٹس کو پیش کی۔ رپورٹ میں جسٹس ورما کی رہائش گاہ پر نقد رقم کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ جسٹس ورما نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف "سازش" قرار دیاہے۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے دو ہفتے بعد، ہندوستانی مسلح افواج نے، ایک سخت جوابی کارروائی میں، منگل (6-7 مئی) کی دیر رات پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، جس میں 100 دہشت گرد مارے گئے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملہ سے متعلق معروف دانشور ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ پاکستان نے حملہ کرایا، اس کا جواب تو دینا ہی چاہئے، لیکن ہمارے ملک کی حکومت کی ناکامی کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ کو ذمہ داری لیتے ہوئے معافی مانگنی چاہئے۔

جمیعۃ علماء ہند کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اگر حکومت عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر قائم رہتی ہے تو معاملے کو ہونے والے نئے چیف جسٹس کی صدارت والی بنچ کو سونپے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

وقف ترمیمی قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج دوسری بار سماعت ہونے والی تھی لیکن چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے اب اس معاملے کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ کے سپرد کردیا گیا ہے اور اس کیلئے نئی تاریخ 15 مئی متعین کی گئی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مندوبین کو پیغام دیا کہ ملک میں امن امان قائم کرنے کے لئے ہم سبھی کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ارباب مدرسہ اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ پیارومحبت کے پیغام کوآگے بڑھائیں اور ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ کو قائم کریں۔

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پرسماعت جاری ہے۔ جمعہ کوسپریم کورٹ نے نئی درخواستوں پرغورکرنے سے انکارکردیا۔ دوسری طرف مسلم فریق کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے جوابی حلف نامہ داخل کیا تھا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔

درخواست گزار نے کہا کہ جب ہمیں پاکستان کے لیے نوٹس ملا تو ہم چونک گئے۔ یہی نہیں، ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اٹاری بارڈر پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ ہم ملک چھوڑ دیں، جبکہ ہم ہندوستانی ہیں۔