Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

سپریم کورٹ میں آج جسٹس یشونت ورما پر ایف آئی آردرج کرنے سے متعلق عرضی داخل کی گئی تھی۔ عدالت نے اس عرضی کو سننے سے انکارکردیا۔ آئیے جانتے ہیں کہ عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے کیا کہا ہے۔

سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ 1923 سے 1995 کے وقف قانون تک یہ انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتے ہیں۔ 2013 میں الیکشن سے قبل ایک قانون بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔

اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری کے خلاف داخل ضمانت عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پوچھا کہ وہ بیان کہاں پرہے، جس میں خاتون افسران کی توہین کی گئی؟

پروفیسر علی خان کو 18 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے خلاف دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس ’’ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے‘‘ کے سخت الزامات کے تحت درج کی گئی تھیں۔

جج نے اپنی الوداعی تقریر کو امید کے پیغام کے ساتھ ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور معاشرے کو مل کر ایک منصفانہ اور مساوی سماج کی تعمیر کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں اور عملے کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے کیرئیر کے دوران ان کا ساتھ دیا۔

سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ وقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال مسلم ہونا ضروری اورجائیداد پرتنازعہ کا نمٹارہ کرنے کا اختیار کلکٹر کو دینے جیسے التزام اگرنافذ ہوگئے توناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج دینے والی عرضیوں پرسپریم کورٹ میں آج سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس مسیح کی بینچ سماعت کررہی ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازعہ ریمارکس دینے والے مدھیہ پردیش حکومت میں وزیروجے شاہ کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک بار سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ میں آج اس معاملے کی جب سماعت ہوئی، تو عدالت نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے ان کے معافی کو بھی قبول نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے وجے شاہ کی گرفتاری پرروک ضرورلگائی ہے، لیکن ایس آئی ٹی کی تشکیل کردی ہے، جواس پورے معاملے کی جانچ کرے گی۔

سری لنکن درخواست گزار کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ سری لنکا ئی  تمل  ہے جو یہاں ویزا پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی جان کو ان کے ملک میں خطرہ ہے۔ درخواست گزار تقریباً تین سال سے بغیر کسی ملک بدری کی کارروائی کے گھر میں نظر بند ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی پرمتنازعہ بیان دینے والے مدھیہ پردیش حکومت میں وزیروجے شاہ کی عرضی پرسپریم کورٹ میں پیرکے روز سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت نے سخت لہجہ اپنایا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ آپ نے بغیرسوچے جوکیا اوراب معافی مانگ رہے ہیں۔