Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court

دارالحکومت دہلی کے بٹلہ ہاؤس میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے معاملہ آگے کے لئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے بلڈوزر کارروائی پر روک لگانے سے بھی انکار کردیا۔

سپریم کورٹ نے اس شخص کو بری کر دیا ہے جس پر ایک طالب علم کو ڈانٹنے کی وجہ سے اسے خودکشی پر اکسانے کا الزام تھا۔

جسٹس این وی انجاریا اصل میں گجرات ہائی کورٹ کے جج، راجستھان ہائی کورٹ کے جسٹس وجے بشنوئی اور بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس اتل ایس چندورکر ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ابھے ایس اوکا سپریم کورٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

 نیٹ پی جی-2025 امتحان سے متعلق سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے امتحان کو ایک شفٹ میں یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے دو شفٹ میں امتحان منعقد کرانے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

دہلی کے جامعہ نگر اور اوکھلا میں موجود کچھ عمارتوں کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ڈی ڈی اے نے ان کو منہدہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ مقدمہ سنے کے تیارہوگیا ہے۔

عرضی  گزار کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے خود حکم جاری کیا تھا، اس معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ ڈی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ کھسرہ نمبر 279 کی زمین دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ہے اور اس پر غیر قانونی طور پر مکانات بنائے گئے ہیں۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ نے کہا کہ ڈی ڈی اے کے افسروں نے ریج علاقے میں پیڑوں کی کٹائی کے لیے سپریم کورٹ کی اجازت نہیں لی ہے جو کہ 1996 کے ایک فیصلے کے تحت ضروری تھی۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر یہ الزام بہت سنگین ہے۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری حکام کی جانب سے متاثرین پر ضرورت سے زیادہ اور غیر قانونی طاقت کے استعمال کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت سے کہا ہے کہ جانچ کو دو سوشل میڈیا پوسٹ تک ہی محدود رکھا جائے۔  ڈیوائس ضبط کرنے یا دوسرے پہلوؤں پرجانچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ تیار ہونے کے بعد پہلے سپریم کورٹ کو دکھائی جائے اور اس کے بعد جولائی میں اس معاملے پر سماعت ہوگی۔

مدھیہ پردیش کی موہن یادو حکومت میں وزیروجے شاہ نے آپریشن سندور کی جانکاری میڈیا کے سامنے رکھنے والی کرنل صوفیہ قریشی پر متنازعہ بیان دیا تھا۔ آج سپریم کورٹ میں اس معاملے میں سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے ایس آئی ٹی کو جانچ کے لئے وقت دے دیا ہے۔