Bharat Express DD Free Dish

Constitution is supreme: قانون ساز اور انتظامیہ اپنی حدود میں رہیں اور آئین کے دائرہ کار سے تجاوز نہ کریں:چیف جسٹس آف انڈیا

جسٹس گوائی نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آئین کے اقدار—برابری، آزادی، اور انصاف—کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین نہ صرف حقوق دیتا ہے بلکہ فرائض بھی عائد کرتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں قانون کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عوام اپنے حقوق سے آگاہ رہیں۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی (فائل فوٹو)

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس ہیمنت گپتا گوائی نے کہا کہ آئین ہندوستان کی سب سے اعلیٰ دستاویز ہے، اور جمہوریت کے تینوں بازو—قانون ساز، انتظامیہ، اور عدلیہ—اس کے دائرہ کار میں کام کرتے ہیں۔ وہ نئی دہلی میں منعقدہ 75ویں یوم آئین کی تقریبات کے دوران خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے آئین کے بنیادی اصولوں پر زور دیا۔جسٹس گوائی نے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے جو ہندوستان کی متنوع ثقافت، تاریخ اور امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے “سماجی تبدیلی کا ذریعہ” قرار دیا، جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح اور اس کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے پابند ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا فرض ہے کہ ہم آئین کے جذبے کو برقرار رکھیں اور اسے غیرجانبداری سے نافذ کریں۔

انہوں نے قانون سازوں اور انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ اپنی حدود میں رہیں اور آئین کے دائرہ کار سے تجاوز نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں بازوؤں کے درمیان توازن جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے بابری مسجد-رام جنم بھومی فیصلے اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے تناظر میں عدلیہ کی غیرجانبداری کو سراہا، کہا کہ یہ فیصلے آئین کی رہنمائی میں کیے گئے۔ جسٹس گوائی نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ آئین کے اقدار—برابری، آزادی، اور انصاف—کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین نہ صرف حقوق دیتا ہے بلکہ فرائض بھی عائد کرتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور میں قانون کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا تاکہ عوام اپنے حقوق سے آگاہ رہیں۔

‘بنیادی ڈھانچے’ کے اصول کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے پاس کیے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، چیف جسٹس گوائی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس ترمیم کا اختیار ہے، لیکن وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صرف حکومت کے خلاف حکم دینے سے جج آزاد نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا ایک فرض ہے اور ہم شہریوں کے حقوق اور آئینی اقدار اور اصولوں کے محافظ ہیں، ہمارے پاس نہ صرف طاقت ہے بلکہ ہمیں فرض بھی سونپا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جج کو اس بات سے رہنمائی نہیں کرنی چاہیے کہ لوگ اس کے فیصلے پر کیا کہیں گے یا محسوس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آزادانہ طور پر سوچنا ہو گا۔ لوگ جو کہیں گے وہ ہمارے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ اپنے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے اپنے بعض فیصلوں کا حوالہ دیا۔ ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف اپنے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ پناہ کا حق سب سے زیادہ ہے۔تقریب میں صدر دروپدی مرمو، وزیراعظم نریندر مودی، اور دیگر اعلیٰ شخصیات موجود تھیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read