Bharat Express DD Free Dish

CJI B R Gavai

سابق چیف جسٹس جسٹس بی آر گوائی کی تقاریر اور عدالتی افکار پر مبنی کتاب 'دی وائس آف جسٹس گوائی اسپیکس' کی رسمِ اجرا 14 جولائی کو ہوگی۔ بھارت کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن اس کتاب کا باضابطہ اجرا کریں گے۔

بھارت کے 52ویں CJI بی آر گوی کا آج مدت کار مکمل ہو رہا  ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ریٹائرمنٹ منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کا سرکاری عہدہ قبول نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ’ایکس پوسٹ فیکٹو‘ یعنی کام شروع ہونے کے بعد ماحولیاتی منظوری دینے پر مکمل پابندی عائد کرنے والے پرانے فیصلے کی نظرِ ثانی کو ضروری قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس بی آر گوئی کی سربراہی والی بینچ نے کہا کہ عدالت کو عوامی مفاد اور زمینی حقیقت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس بی آر گوئی نے سپریم کورٹ میں لال نارائن سنہا اور شانتی بھوشن کے پورٹریٹ کی نقاب کشائی کی، ان کی قانون اور آئینی دیانت داری کے میدان میں نمایاں خدمات کو سراہا۔ انہوں نے انصاف اور جمہوریت کے لیے ان کی وابستگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے قانونی پیشہ وروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں سینئروکلا نے اپنے اپنے میدان میں ایسا تعاون دیا ہے، جس کا اثرلمبے وقت تک بنا رہے گا۔ انہوں نے دونوں فیملی کے تئیں اظہارتعزیت کرتے ہوئے کہا کہ باراوربنچ نے دواہم ستون کھودیئے ہیں۔

وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ صدرِ جمہوریہ نے آئین میں دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جسٹس سوریہ کانت کو بھارت کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔

بھوٹان کے سرکاری دورے کے دوران چیف جسٹس نے دونوں ممالک کی عدلیہ کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بات کی اور بھارت-بھوٹان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپنی عہد وابستگی کو دہرایا۔

سپریم کورٹ میں وکیل نے سی جے آئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی، سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر وکیل کو پکڑ لیا۔ واقعہ کے بعد عدالت کے احاطے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

پڑوسی ملک نیپال میں جنریشن زی نوجوانوں کی قیادت میں انسداد بدعنوانی اور سوشل میڈیا پر پابندی کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت، سپریم کورٹ اور لیڈران کے گھروں کو آگ لگا دی۔

سی جے آئی بی آر گوئی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کی عدلیہ کے درمیان دوستی کو فروغ دیتا ہے بلکہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے، عدالتی معیار کو بہتر بنانے اور باہمی سیکھنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔