بھارت کے 52ویں چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) بی آر گوی کا آج اپنا عہدہ مکمل کر چکے ہیں۔ وہ اتوار کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ سے ٹھیک پہلے منعقدہ الوداعی تقریب میں انہوں نے کئی اہم موضوعات پر کھل کر اپنی رائے دی۔ سی جے آئی نے عدلیہ سے متعلق تصورات، سماجی انصاف اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی خیالات شیئر کیے۔ سی جے آئی بی آر گوی نے واضح کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کسی بھی سرکاری عہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ اپنے مستقبل کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے 10 دن آرام کریں گے اور اس کے بعد آئندہ کی منصوبہ بندی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سماجی خدمت ان کے خون میں ہے اور خاص طور پر وہ قبائلی علاقوں میں سماجی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سوالات پر کھلا جواب
تقریب کے دوران جب آزاد عدلیہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو گوی نے کھل کر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اگر کوئی جج حکومت کے حق میں فیصلہ دیتا ہے تو وہ آزاد نہیں ہے۔ فیصلے قانون اور آئین کی بنیاد پر لیے جاتے ہیں۔
ایس سی-ایس ٹی میں ’کریمی لیئر‘ کی ضرورت
سی جے آئی نے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن میں’کریمی لیئر‘ نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس کا مقصد ریزرویشن کے اصل مستفیدین تک خصوصی امداد پہنچانا ہے تاکہ ان افراد کو فائدہ ملے جنہیں واقعی اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جھوٹی اطلاعات ایک مسئلہ
سوشل میڈیا کے حوالے سے سی جے آئی نے کہا کہ یہ آج کل ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ جو کچھ ہم نہیں کہتے، وہ بھی لکھا اور دکھایا جاتا ہے۔ یہ صرف عدلیہ تک محدود مسئلہ نہیں ہے بلکہ حکومت اور دیگر آئینی ادارے بھی اس سے متاثر ہیں۔
یشونت ورما کیس پارلیمنٹ کے پاس
ایک سوال کے دوران جب پوچھا گیا کہ کسی جج کے گھر پیسے ملنے کی صورت میں براہِ راست FIR درج ہونی چاہیے یا سی جے آئی کے ذریعہ تحقیقات کرائی جائیں، تو گوی نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یشونت ورما کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ معاملہ اب پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
گورنر اور صدر کے بارے میں کیا کہا؟
آئینی بحث سے متعلق ایک حالیہ فیصلے پر انہوں نے کہا کہ صدر کے ریفرنس والے فیصلے میں گورنر اور صدر کے بلوں کی منظوری کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں انہوں نے واضح کیا کہ دو رکنی بینچ کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ مستقبل کے لیے ممکنہ انتظامات پر رائے دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


