سی جے آئی گوئی نے نیپال کی صورتحال کا ذکر کیا۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے پڑوسی ممالک نیپال اور بنگلہ دیش میں غیر مستحکم سیاسی صورتحال کا ذکر کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گوئی کی سربراہی میں بنچ نے ہندوستانی آئین پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ پڑوسی ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمارا آئین زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔
دراصل، سماعت صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی طرف سے بھیجے گئے ریفرنس پر ہو رہی تھی، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا عدالت ریاستی اسمبلیوں کے ذریعے منظور کیے گئے بلوں پر گورنروں یا صدر کے ذریعے تاریخ کی حد مقرر کر سکتی ہے۔
اپریل 2025 کے ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے گورنروں کو تین ماہ کی مدت دی تھی، جس کے خلاف مرکزی حکومت نے یہ ریفرنس بھیجا۔ بینچ میں سی جے آئی گووئی کے علاوہ جسٹس سوریہ کانت، جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس پی۔ ایس۔ نرسمہا اور جسٹس اتل ایس۔ چندورکر شامل ہیں۔
سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے 1975 کی ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اندرا گاندھی حکومت کو سبق سکھایا، پھر عوام نے خود ہی انہیں بھاری اکثریت سے اقتدار میں واپس لایا۔ CJI گوئی نے اتفاق کیا اور کہا، ’’ہاں، بھاری اکثریت سے۔ یہ آئین کی طاقت ہے۔‘‘ پھر انہوں نے نیپال کے حالات کا ذکر کیا، جہاں جنریشن زی کے مظاہرین کی پرتشدد تحریک نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ سی جے آئی گوئی نے کہا، ’’ہمیں اپنے آئین پر فخر ہے۔ دیکھیے ہمارے پڑوسی ممالک میں کیا ہو رہا ہے۔ نیپال میں جو ہم دیکھ رہے ہیں۔‘‘
جسٹس وکرم ناتھ نے سی جے آئی گوئی سے کیا اتفاق
جسٹس وکرم ناتھ نے سی جے آئی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ’’ہاں، بنگلہ دیش میں بھی‘‘۔ وہ گزشتہ سال بنگلہ دیش میں طلباء کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دے رہے تھے، جس نے شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا۔
نیپال میں جن زی کے احتجاج نے اختیار کیا پرتشدد رخ
آپ کو بتاتے چلیں کہ پڑوسی ملک نیپال میں جنریشن زی نوجوانوں کی قیادت میں انسداد بدعنوانی اور سوشل میڈیا پر پابندی کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت، سپریم کورٹ اور لیڈران کے گھروں کو آگ لگا دی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
