Bharat Express DD Free Dish

Nepal Gen Z Protest

نیپال میں ستمبر کے مہینے میں ہوئے ’جین زی‘ ہنگاموں کے دوران سرکاری اداروں، عمارتوں اور جیلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیپال کی مختلف جیلوں میں قید ہزاروں قیدی فرار ہو گئے، جن میں سے اب بھی 4,552 سے زائد قیدی لاپتہ ہیں اور حکومت کو ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

بارا کے ضلعی انتظامیہ دفتر نے ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ سیکورٹی اہلکار کرفیو کے دوران ضروری سروس گاڑیوں، ایمبولینس، فائر بریگیڈ گاڑیوں، جنازہ گاڑیوں، صحت کے کارکنوں کی گاڑیوں، میڈیا اہلکاروں، سیاحوں کی گاڑیوں، انسانی حقوق اور سفارتی مشنز کی گاڑیوں اور ہوائی ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کی آمد و رفت کی سہولت فراہم کریں گے۔

دریں اثنا نیپال کی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور قومی اسمبلی کے چیئرمین نے جمعہ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

پڑوسی ملک نیپال میں جنریشن زی نوجوانوں کی قیادت میں انسداد بدعنوانی اور سوشل میڈیا پر پابندی کے احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت، سپریم کورٹ اور لیڈران کے گھروں کو آگ لگا دی۔

نیپال کے نوجوانوں نے واضح کیا ہے کہ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کرپشن فری نہیں ہو جاتی۔ نوجوانوں کے بڑھتے مظاہروں کی وجہ سے نیپال کے وزیراعظم سمیت کئی وزراء کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا، لیکن پھر بھی نوجوانوں کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر جھل ناتھ کھنال صرف 7 ماہ تک نیپال کے وزیر اعظم رہے۔ انہوں نے فروری 2011 میں مادھو کمار نیپال کے بعد عہدہ سنبھالا تھا اور اگست 2011 تک منصب پر فائز رہے۔