نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بی آرگوئی نے منگل کے روز (11 نومبر) کوایک ایسی شخصیت کو یاد کیا، جس نے عدلیہ اور قانونی پیشے دونوں پرمنفرد اثرات چھوڑے۔ سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس کے دوران چیف جسٹس بی آرگوئی نے گہرے احترام کے ساتھ سینئرایڈوکیٹ جگدیش چندرگپتا اورڈاکٹرشرت ایس جوالی کی زندگیوں اورشراکت کویاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افراد نے سختی کے بجائے سمجھ بوجھ اورہمدردی کے ساتھ قانون سے رجوع کیا اورقانون کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
اپنے خطاب میں سی جے آئی گوئی نے کہا کہ جگدیش چندرگپتا ایک ایسے شخص تھے، جنہوں نے عدلیہ اورقانونی پیشے دونوں میں اہم شراکت کی۔ وہ 27 اگست 1940 کو متھرا میں پیدا ہوئے۔ 1961 میں الہ آباد یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے 1962 میں قانون کی پریکٹس شروع کی۔ بعد میں، 1977 میں، انہوں نے ہائرجوڈیشل سروس میں شمولیت اختیارکی اورکانپور، ایٹہ، غازی آباد، سلطان پوراوردہرہ دون میں عدالتی عہدوں پرفائزرہے۔
500 سے زیادہ فیصلوں میں شامل
1996 میں، وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج مقررہوئے اور2002 تک خدمات انجام دیں۔ اپنے دورمیں، وہ 500 سے زیادہ فیصلوں میں شامل رہے۔ سی جے آئی نے نوٹ کیا کہ سیکشن 156(3) سی آرپی سی پران کے فیصلے کواب بھی عدالتوں میں حوالہ کے طور پرپیش کیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، وہ سپریم کورٹ اوراتراکھنڈ ہائی کورٹ میں سینئروکیل کے طورپرپریکٹس کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جگدیش چندرگپتا سادگی، ایمانداری اورمتوازن نقطہ نظرکی علامت تھے۔ اس تقریب میں ان کے اہل خانہ نے عملی طورپرشرکت کی۔
ڈاکٹر شرت ایس جاؤلی نے خراج عقیدت پیش کیا
سپریم کورٹ نے سینئرایڈوکیٹ ڈاکٹرشرت ایس جاؤلی کوبھی خراج عقیدت پیش کیا۔ 16 ستمبر1939 کوپنے میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق کرناٹک کے ایک معززقانونی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے 1964 میں سپریم کورٹ میں پریکٹس شروع کی اورآئینی اورعوامی معاملات میں نمایاں کردارادا کیا۔
مختلف معاملوں میں اہم طور پر رہے شامل
انہوں نے فالی ایس نریمن اور انل بی دیوان جیسے سینئر وکلاء کے ساتھ کرشنا، کاویری اور مہادیئی ندی تنازعہ میں کرناٹک کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ بیلگاوی سرحدی تنازعہ اور راجیو گاندھی قتل معاملے کی جانچ کررہے جین کمیشن میں بھی کرناٹک کی طرف سے وکیل رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


