دہلی میں واقع سپریم کورٹ میں آج ایک غیر متوقع واقعہ پیش آیا، جب کے چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) بی آر گوئی کی بینچ کے سامنے ایک وکیل نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ الزام ہے کہ وکیل نے جج کی طرف جوتا پھینکنے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر مستعدی دکھاتے ہوئے وکیل کو حراست میں لے لیا۔
چیف جسٹس بی آر گوئی بالکل پرسکون رہے
واقعے کے دوران چیف جسٹس بی آر گوئی بالکل پرسکون رہے۔ انہوں نے سماعت کو روکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسی چیزوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اس کے بعد عدالت میں دیگر معاملات کی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔ ملزم وکیل کی شناخت راکیش کشور کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا سپریم کورٹ بار کونسل میں اندراج 2011 میں ہوا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق، وکیل میز کے قریب گیا، اپنا جوتا نکالا اور چیف جسٹس کی طرف پھینکنے کی کوشش کی، لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے اسے روک لیا۔ باہر لے جاتے وقت وہ چِلایا: ’’سناتن کا اپمان نہیں سہیں گے۔‘‘
سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی مزید سخت
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی اہلکار اور بینچ سے منسلک افسران اس واقعے کے بعد مستعد ہو گئے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی کسی دیگر صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے وابستہ ایک سینئر وکیل نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی وکیل کی طرف سے عدالت میں اس طرح کا برتاؤ ناقابل قبول ہے اور عدالتی وقار کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق، واقعے کے پیچھے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ملزم وکیل حال ہی میں ’لارڈ وشنو‘سے متعلق ایک مقدمے میں عدالت کی جانب سے دیے گئے تبصرے سے ناراض تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسی تنازع کی بنیاد پر اس نے یہ قدم اٹھایا۔ فی الحال پولیس ملزم وکیل سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


