Bharat Express DD Free Dish

Muslim Community on Waqf Bill: ’قانون بناکرمسلمانوں کو خوفزدہ نہیں کرسکتے…‘، وقف قانون پراسدالدین اویسی کا بڑا دعویٰ

وقف ترمیمی قانون سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بڑا بیان دیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور بی جے پی حکومت ہم سے وقت کے تحت زمین نہیں چھین سکتے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)

Asaduddin Owaisi on Waqf Bill: ملک میں وقف ترمیمی قانون سے متعلق پورا اپوزیشن مودی حکومت کے خلاف ہے۔ معاملہ فی الحال عدالت میں زیر غور ہے۔ اس درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مانتے ہیں کہ وہ اس طرح کے قانون بناکر مسلم طبقے کو خوفزدہ کرسکتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وزیراعظم مودی یا بی جے پی حکومت ہم سے وقف کے تحت زمین نہیں چھین سکتی۔

اسدالدین اویسی نے یہ باتیں کرناٹک کے رائے چورمیں ایک عوامی جلسے کوخطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ قانون بناکر ڈرایا جائے گا۔ وزیراعظم مودی اورمودی حکومت ہم سے ایک انچ زمین بھی نہیں چھین پائے گی۔ یہ کالا قانون ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 14, 25, 26 اور28 کے خلاف ہے، جوکہ چیپٹر-3 کا حق ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم رائے چورکے ہندو بھائیوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کواینڈوومنٹ بورڈ میں ہندو رکن بن سکتا ہے تو مسلمانوں کو وقف میں کیسے غیرمسلم رکن بنے گا؟

غیرآئینی ہے یہ قانون، اویسی کا بڑا دعویٰ

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اویسی نے کہا کہ وقف قانون میں پانچ سال کے التزام پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ یہ 5 سال کے مسلمان کا قانون کیا ہے؟ یہ 5 سال کا ضابطہ کہاں سے لایا گیا ہے؟ واضح رہے کہ اویسی وقف ترمیمی قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔ لوک سبھا میں تبادلہ خیال کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ گاندھی کی طرح اس بل کو پھاڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے وقف بورڈ کمزور ہوگا۔ یہ قانون غیرآئینی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read