Bharat Express DD Free Dish

Waqf Act 2025

تیجسوی یادو نے کٹیہار کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تعلیم اور دوا کے انتظامات ٹھیک نہیں ہیں اور نہ ہی روزگار کے کافی مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کی حکومت ان تمام مسائل کو حل کرنے کا کام کرے گی۔

تمل ناڈوکے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیغمبر اسلام کے 1500ویں یوم پیدائش کے موقع پرایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ڈی ایم کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے وقف ایکٹ، شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، تین طلاق اورفلسطین جیسے مسائل پربھی توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ’’اگر مسلمانوں کوکوئی مسئلہ درپیش ہے، توسب سے پہلی سیاسی جماعت جوان کی مدد کو آتی ہے وہ ڈی ایم کے ہے۔‘‘

مہاراشٹر میں زبان کے تنازع پر ایم این ایس کے موقف کے بارے میں ابو اعظمی نے کہا کہ مراٹھی زبان کا احترام کیا جاتا ہے۔ یہ ریاست کی زبان ہے۔ کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کو مارنا درست نہیں۔ بغیر اجازت احتجاج کرنا درست نہیں۔ ریاستی حکومت کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔

مفتی منظور ضیائی نے کہا کہ اس کتاب کے منظر عام پر آنے سے ان لوگوں کے پیٹ میں یقینا درد ہوگا جنہوں نے وقف کی املاک میں خردبرد کی ہوگی چونکہ جو املاک ایک بار وقف کر دی جاتی ہے اس کے بعد اس کو وقف کرنے والے کا بھی اس پر اختیار نہیں رہتا اور یہ اللہ کی امانت ہو جاتی ہے۔

راشٹریہ جنتا دل کے لیڈراوراسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر رتیجسوی یادو نے گاندھی میدان میں  وقف قانون کے خلاف احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے ہی اس وقف بل کی مخالفت کی ،لیکن کچھ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی مہربانی سے حکومت نے اس بل کو ایوان میں زبردستی منظور کرالیا۔

وقف ترمیمی قانون سے متعلق اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بڑا بیان دیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور بی جے پی حکومت ہم سے وقت کے تحت زمین نہیں چھین سکتے۔

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں"وقف اراضی کی حفاظت" پر منعقدہ عوامی اجلاس میں ہندوستان بھر میں وقف املاک کو بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لئے سیاسی رہنماؤں، شہری حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم، اورمتعلقہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ 1923 سے 1995 کے وقف قانون تک یہ انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتے ہیں۔ 2013 میں الیکشن سے قبل ایک قانون بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔

وقف ترمیمی قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بینچ سماعت کرے گی اور بھارت سرکار کی طرف سے بھی عدالت میں اپنا موقف رکھا جائے گا۔

سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ وقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال مسلم ہونا ضروری اورجائیداد پرتنازعہ کا نمٹارہ کرنے کا اختیار کلکٹر کو دینے جیسے التزام اگرنافذ ہوگئے توناقابل تلافی نقصان ہوگا۔