Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Act 2025: وقف قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پرسپریم کورٹ میں آج پھر ہوگی سماعت، مسلم فریق کی دلیلیں مکمل، مودی حکومت کو دینا ہے جواب

وقف ترمیمی قانون سے متعلق سپریم کورٹ میں آج اہم سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس آگسٹن جارج مسیح کی بینچ سماعت کرے گی اور بھارت سرکار کی طرف سے بھی عدالت میں اپنا موقف رکھا جائے گا۔

نئی دہلی: وقف ترمیمی قانون کو چیلنج دینے والی عرضیوں پرمنگل کے روز سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس بی آرگوئی اورجسٹس اے جی مسیح کی بینچ نے کہا کہ عرضی گزاروں کو عبوری راحت پانے کے لئے معاملے کو مزید مضبوط کرنا چاہئے۔ اس معاملے پر بدھ کے روز بھی سماعت ہوگی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ میں منگل کے روزتقریباً 4 گھنٹے تک وقف ترمیمی قانون پرسماعت ہوئی۔ اس دوران قانون کوچیلنج پیش کرنے والے عرضی دہندگان کے وکلاء کپل سبل، راجیو دھون، ابھیشیک منوسنگھوی اورحذیفہ احمدی کی طرف سے مضبوط دلائل پیش کئے گئے۔ اب آج حکومت ان کا جواب دے گی۔

جسٹس بی آر گوئی اورجسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے عرضی گزاروں کے وکلاء کی دلیلیں بغورسنیں اورکچھ معاملوں میں وضاحت کے لیے سوال بھی سامنے رکھے۔ آج دوپہرسے قبل اورپھراس کے بعد مجموعی طورپر تقریباً 4 گھنٹے کی سماعت ہوئی، جس میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف کئی مضبوط دلیلیں پیش کی گئیں۔ آج کی سماعت کے دوران عرضی دہندگان کے وکلاء  نے اپنی بات عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھی۔ کل جب سماعت شروع ہوگی توحکومت کی طرف سے عرضی گزارکے خدشات اورسوالات پر جواب پیش کئے جائیں گے۔ آج کی سماعت میں مذکورہ وکلاء نے کئی مضبوطی دلیلیں پیش کیں، جن میں سے چند اہم دلائل یہ ہیں۔

آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے یہ قانون: ابھیشیک منو سنگھوی

   سینئرایڈووکیٹ ابھشیک منوسنگھوی نے کہا کہ عطیہ دوسرے مذاہب میں بھی ہوتے ہیں، لیکن کس مذہب کے لوگوں کے لیے یہ انتظام ہے کہ آپ کو5 سال یا 10 سال اس مذہب پرعمل کرنے کا ثبوت دکھانا ہوگا؟ وقف ترمیمی قانون میں موجود یہ سہولت آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دلیل پیش کی کہ وقف کے رجسٹریشن کے نام پر ایک طرح کی دہشت پیدا کی جا رہی ہے۔ جہاں متعلقہ شخص یا ادارہ کوباربار رجسٹریشن کرانے دفترجانا ہوگا۔ سنگھوی نے سروے اوراس کے بعد حکومت کی طرف سے دیئے گئے اعداد وشمارپربھی سوال اٹھائے۔ ایڈووکیٹ سنگھوی کی دلیل یہ بھی تھی کہ ’وقف بائی یوزر‘ یعنی استعمال کی بنیاد پر وقف مانی جانے والی بیشترجائیدادوں کا کہیں کوئی رجسٹریشن نہیں ہے۔ اب ان جائیدادوں کوایک طرح سے انصاف مانگنا ہوگا۔ کوئی بھی آنے والے دنوں میں تنازعہ کھڑا کرسکتا ہے اوراس طرح وقف کا درجہ ختم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ نئی ترمیم کا سیکشن 3 ڈی چونکہ قدیم یادگاروں کے لیے بنے قوانین پربھی نافذ ہوتا ہے، اس کا اثران مذہبی مقامات پربھی پڑسکتا ہے جواب تک ’پلیسزآف ورشپ ایکٹ‘ کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ کسی ایک مذہب سے منسلک جائیداد کے لیے اس طرح کا انتظام کرنا آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔

مذہبی ملکیتوں کی تعریف کو انگریزوں نے بھی نہیں بدلا: ایڈوکیٹ راجیو دھون

  سینئرایڈووکیٹ راجیودھون نے عرضی دہندگان کی طرف سے کہا کہ مذہبی ملکیتوں کی تعریف کوبرطانوی دورمیں بھی نہیں بدلا گیا۔ ہم ایک سیکولرملک ہیں۔ میرا ایک موکل جوسِکھ ہے، وہ وقف کرنا چاہتا ہے، لیکن اس قانون کے بعد کیا وہ ایسا کرسکتا ہے؟ اس طرح توعدالتوں نے جوبھی سیکولرفیصلے اب تک دیئے ہیں، وہ ایک جھٹکے میں ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وقف اوراس سے جڑے قدیم قوانین پرکئی آئینی بنچ فیصلے دے چکی ہیں۔ چاہے وہ بابری مسجد کا معاملہ ہو یا پھرکوئی دوسرا۔ سبھی معاملوں میں وقف بائی یوزر یعنی استعمال کی بنیاد پروقف ملکیت بنے رہنے کا فیصلہ یہی عدالت دے چکی ہے، پھراب یہ نیا کیوں؟

وقف جائیدادوں کے انتظام کا حق چھین لیا گیا: کپل سبل

   کپل سبل نے اے ایس آئی کی ویب سائٹ پر موجود ایک فہرست دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک بارجب وہ محفوظ ہوجاتے ہیں تواس کا وقف کا درجہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس میں جامع مسجد سنبھل بھی شامل ہے۔ اس لئے کوئی بھی تنازعہ اٹھے گا اورپھراس جگہ کا وقف کا درجہ ختم ہوجائے گا۔ ایڈووکیٹ کپل سبل نے کہا کہ وقف جائیدادوں کے انتظام کا حق چھین لیا گیا ہے۔ مرکزی وقف کونسل کے بیشتر اراکین غیرمسلم ہیں۔ نئے قانون کی دفعہ 9، اس میں 12 غیرمسلم اور10 مسلم ہیں۔ پہلے یہ سبھی مسلم تھے۔ اب یہ سبھی نامزد ہیں۔  پانچ سال تک اسلام پرعمل کرنے کے التزام پرایڈووکیٹ حذیفہ احمدی نے سخت اعتراض ظاہرکیا۔ انھوں نے کہا کہ کس طرح طے ہوگا کہ میں اسلام مذہب پرعمل کرتا ہوں یا نہیں؟ کیا کوئی مجھ سے یہ پوچھ کرطے کرے گا کہ میں 5 وقت کی نمازپڑھتا ہوں یا نہیں۔ یا پھرکوئی یہ پوچھے گا کہ میں شراب پیتا ہوں یا نہیں، کیا اس طرح سے طے کیا جائے گا؟

سالسٹرجنرل تشار مہتا نے عدالت سے کی یہ بڑی اپیل

 منگل کی سماعت کے دوران جب ملک کے سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ مجموعی طورپر3 موضوعات ہیں، جن پرروک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، توکپل سبل نے کہا کہ صرف 3 موضوعات نہیں ہیں۔ پورے وقف پر قبضہ کا معاملہ ہے۔ ایڈووکیٹ کپل سبل نے کہا کہ قانون کا مقصد وقف پرقبضہ کرنا ہے۔ قانون اس طرح بنایا گیا ہے کہ وقف جائیدادوں کو بغیرکسی طریقۂ کارپرعمل کیے چھین لیا جائے۔ اس معاملے میں ’وقف (ترمیمی) قانون‘ کے آئینی جوازکوچیلنج کرنے والے عرضی دہندگان کی طرف سے پیش سینئروکیل کپل سبل اورابھشیک منوسنگھوی نے مرکزکی دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اہم قوانین پرٹکڑوں میں سماعت نہیں ہوسکتی۔ کپل سبل نے دلیل پیش کی کہ ترمیم شدہ قانون آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم توسبھی موضوعات پردلیل رکھیں گے۔ یہ مکمل وقف جائیداد پرقبضہ کرنے کا معاملہ ہے۔ کپل سبل نے سپریم کورٹ سے کہا کہ اس معاملے میں عبوری حکم جاری کرنے پرسماعت ہونی چاہئے۔ یہ قانون غیرآئینی اوروقف جائیداد کوکنٹرول کرنے والا اورچھیننے والا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read