Bharat Express DD Free Dish

Waqf Act 2025

وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج دینے والی عرضیوں پرسپریم کورٹ میں آج سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس مسیح کی بینچ سماعت کررہی ہے۔

عدالت کی جانب سے متعین کی گئی پانچ پٹیشن میں مولانا ارشد مدنی کی پٹیشن کا پہلا نمبر ہے، جس پرسینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے آج بحث کی۔ اگلی سماعت پرعدالت وقف ترمیمات پرعبوری اسٹے کے تعلق سے ہی سماعت کرے گی، اس بات کا خلاصہ چیف جسٹس گوئی نے آج دوران سماعت کیا۔

سپریم کورٹ میں آج وقف ترمیمی قانون کوچیلنج دینے والی عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 20 مئی کو ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت کے دوران ہندوفریق کی طرف سے وقف ایکٹ 1995 کے جوازکوچیلنج کرنے والی کسی بھی درخواست پرغورنہیں کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔

پی ایم مودی نے کہاکہ ہمارے ملک کے درجنوں اضلاع کو پسماندہ کا لیبل لگا کر چھوڑ دیا گیا، آج وہ ڈیلیور کر رہے ہیں۔ قبائلیوں کو بھی یقین ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کر سکتی ہے۔ یہ ہماری حکومت بلا تفریق ملکی وسائل کی ترقی کے لیے کر رہی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مندوبین کو پیغام دیا کہ ملک میں امن امان قائم کرنے کے لئے ہم سبھی کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ارباب مدرسہ اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ پیارومحبت کے پیغام کوآگے بڑھائیں اور ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ کو قائم کریں۔

جمعیۃ علماء ہند کی دوروزہ کانفرنس 4-3 مئی کونئی دہلی میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس میں وقف ایکٹ، پہلگام دہشت گردانہ حملہ، بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اورآئین کا تحفظ جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔ کانفرنس میں ملک بھرسے نمائندے شرکت کریں گے اورآئندہ کی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کریں گے۔

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پرسماعت جاری ہے۔ جمعہ کوسپریم کورٹ نے نئی درخواستوں پرغورکرنے سے انکارکردیا۔ دوسری طرف مسلم فریق کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے جوابی حلف نامہ داخل کیا تھا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جب تک یہ کالے قانون واپس نہیں لئے جاتے تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں پورے اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔ کسی طرح کی کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کہنا ہے کہ ملک کی موجودہ حکومت کہتی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور غریب مسلمانوں کے مفاد میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت  ملک میں نفرت پیدا کرکے اوقاف کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔