Bharat Express DD Free Dish

وقف قانون پرمسلم فریق اور مرکزی حکومت نے دے دیا جواب، اب 5 مئی کو سپریم کورٹ میں کیا ہوگا؟

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پرسماعت جاری ہے۔ جمعہ کوسپریم کورٹ نے نئی درخواستوں پرغورکرنے سے انکارکردیا۔ دوسری طرف مسلم فریق کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے جوابی حلف نامہ داخل کیا تھا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔

سپریم کورٹ۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: وقف (ترمیمی) قانون، 2025 کے خلاف پورے ملک سے 70 سے زیاہ عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں، جن پرسپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ جمعہ کے روزاس معاملے میں ایک اورعرضی داخل کی گئی، لیکن سپریم کورٹ نے اس پرسماعت سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ وقف معاملے میں اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔ عرضی گزاروں نے اپنے حلف نامہ میں دعویٰ کیا ہے کہ وقف ایکٹ میں کی گئیں یہ ترامییم آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی کرتی ہیں، جومذہبی اداروں کواپنے معاملات کو سنبھالنے کی آزادی دیتا ہے۔

مسلم فریق نے اپنے حلف نامہ میں کہی یہ بڑی بات

اس درمیان، جمعہ کے روزمسلم فریق کی طرف سے مولانا سید ارشد مدنی اورجمیل مرچنٹ نے جوابی حلف نامہ داخل کیا، جس میں کہا گیا کہ مرکزی حکومت نے اپنے جواب میں شہریوں کوحاصل آئینی حقوق کی غلط تشریح کی ہے۔ عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ کے سال 2020 کے محمد سلیم بنام ہندوستانی حکومت فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی حقوق کی تشریح پہلے ہی واضح کی جاچکی ہے۔ اس کے باوجود حکومت قانون کومناسب ٹھہرانے کی کوشش کررہی ہے، جونامناسب ہے۔

مرکزی حکومت نے لگایا تھا افواہ پھیلانے کا الزام

وہیں، اس سے پہلے سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے اقلیتی امورکی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری شیرشا شیخ محی الدین نے سپریم کورٹ میں 1,332  صفحات کا جواب دیا تھا۔ حکومت نے واضح کیا کہ وہ ایکٹ کے کسی بھی التزام پرعدالت کے ذریعہ روک لگانے کی مخالفت کرتی ہے اوریہ ترک دیا کہ عدالت کوصرف آخری فیصلہ دینا چاہئے۔ نہ کہ قانون پرروک لگانا چاہئے۔ حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سال 2013 کے بعد وقف املاک میں 20 لاکھ ہیکٹیئرسے زیادہ کا اضافہ”حیران کرنے والا“ ہے۔ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ ”وقف بائی یوزر“ کوآئینی تحفظ نہ دینے سے کسی مسلم شخص کو وقف قائم کرنے سے روکا نہیں جا رہا ہے۔

مرکزی حکومت نے حلف نامہ میں کرائی تھی یقین دہانی

حکومت نے الزام لگایا کہ ایک ”جان بوجھ کرخوف کی کہانی“ پھیلائی جارہی ہے، جس سے یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ بغیردستاویزوالے اوقاف اس قانون سے متاثرہوں گے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے دیئے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ ”وقف بائی یوزر“ کومنظوری دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کا رجسٹریشن 8 اپریل، 2025 تک ہوگیا ہو۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں دیئے گئے حلف نامے میں واضح کردیا تھا کہ 5 مئی تک کسی بھی وقف املاک کوغیرمؤثرنہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سینٹرل وقف کونسل اورریاستی وقف بورڈوں میں کوئی نئی جوائننگ کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read